Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


غالبؔ اردو شاعری کے صرف رومانوی شاعر نہیں بلکہ ایک فلسفی، مزاح نگار، مصلح اور انسان شناس بھی تھے۔ ان کی شاعری میں کائنات کی وسعت اور دل کی نزاکت ایک ساتھ جلوہ گر ہےاور یہی وہ راز ہے جو انہیں زندہ وجاوید کر گیا۔

بہار کے سات زندہ ووٹروں کو ووٹر لسٹ میں ’’مردہ‘‘ قرار دے کر نام کاٹ دیا گیا، راہل گاندھی نے سپریم کورٹ پہنچے متاثرین سے ملاقات کی، کانگریس نے انتخابی سازش قرار دیا

بھارت اور چین کے تعلقات میں بہتری کی جانب پیش رفت، ایس سی او سربراہی اجلاس میں وزیراعظم مودی اور صدر شی جن پنگ کی ملاقات بھی متوقع۔

آج علی الصبح دوسہ-منوہرپور ہائی وے پر بسدی چوراہا کے قریب پیش آیا حادثہ، جب ایک پک اپ گاڑی اور ٹرک میں تصادم ہوا۔ حادثے میں 10 افراد جاں بحق، 11 زخمی، وزیر اعظم کی جانب سے لواحقین کو 2 لاکھ اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے کی امداد دی جائے گی۔

وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں شروع ہونے والی یہ مہم آج ایک عظیم عوامی تحریک بن چکی ہے۔ یہ مہم ملک کے 140 کروڑ شہریوں کو اتحاد کے رشتے میں باندھ کر قوم پرستی کے جذبے کو نئی توانائی بخش رہی ہے۔

اس یوم آزادی پر وزیراعظم کا لال قلعہ سے خطاب نہ صرف قومی وقار اور ترقی کی داستان پیش کرے گا بلکہ عوام کو آزادی کے مجاہدین کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی تحریک بھی دے گا۔ مودی کا یہ خطاب بھارت کے سماجی، سیاسی اور معاشی تبدیلی کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جائے گا۔

اڈانی ڈیجیٹل لیبز ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کا ایک رہنما ادارہ ہے، جو اختراعی ٹیکنالوجی اور کسٹمر سینٹرک حل کے ذریعے ٹریول اور ایئرپورٹ کے تجربے کو بہتر بناتا ہے۔ اپنی تازہ ترین پہل کے ساتھ یہ ادارہ ایئرپورٹ مہمان نوازی میں نئے معیارات قائم کر رہا ہے۔

داغ دہلوی اردو شاعری کا ایک ایسا درخشاں نام ہیں جنہوں نے سادہ اور سہل زبان میں گہری باتیں کہہ کر اردو ادب کے شعری آہنگ کو ایک نیا رنگ دیا۔ ان کی شاعری نہ صرف ان کے دور میں مقبول تھی بلکہ آج بھی اپنی تازگی اور تاثیر کے ساتھ زندہ ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت میں روحانیت اور سائنس، تجسس اور تخلیقیت کا ملاپ صدیوں سے فلکیات کے میدان میں نمایاں ہے۔ 64 ممالک کے 300 سے زیادہ چمکتے ستاروں سے جڑنا ایک خوشی کی بات ہے۔ میں آپ سب کو دل سے خوش آمدید کہتا ہوں۔

میر تقی میر اپنے اشعار کے ذریعے آج بھی زندہ ہیں۔ اردو شاعری کا کوئی معتبر ذکر میر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ انہوں نے اپنے وقت کے دکھ، محبت اور انسانی تجربے کو ایسی سچائی سے بیان کیا کہ صدیوں بعد بھی قاری ان کے کلام میں اپنا عکس دیکھتا ہے۔