Urdu Conclave 2026

Habiburrahman




Bharat Express News Network


بادل پھٹنے کے باعث گنگوتری دھام کا ضلع ہیڈکوارٹر سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر پہاڑی ریاستوں میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈ اور بادل پھٹنے جیسے خطرات کی سنگینی اور فطرت سے چھیڑ چھاڑ کے نتائج کا اظہار ہے۔

رام رحیم کی بار بار جیل سے رہائی نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا قانون سب کے لیے برابر ہے؟ اور کیا سیاسی فوائد کی خاطر مجرموں کو رعایت دی جا سکتی ہے؟ اس پر حکومت، عدلیہ اور سماج کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔

مہوا موئترا اور کلیان بینرجی کے درمیان جاری اس لفظی جنگ نے ٹی ایم سی قیادت کے لیے ایک چیلنج کھڑا کر دیا ہے، کیونکہ دونوں ہی پارٹی کے اہم چہروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ابھی تک پارٹی قیادت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

تیجسوی نے کہا کہ ڈومیسائل پالیسی کا مطالبہ پچھلے 20 سال سے اٹھ رہا ہے، لیکن حکومت نے اب جا کر اس پر قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کے نوجوانوں کو روزگار دینے کے لیے یہ پالیسی ضروری ہے، جیسا کہ کئی ریاستوں میں اسے پہلے ہی نافذ کیا جاچکا ہے۔

وزیر خارجہ ڈاکٹر جے شنکر اور آچاریہ لوکیش مُنی کے درمیان ہونے والی یہ معنویت سے بھرپور ملاقات، بھارت کے امن کے مشن میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔ اس کے ذریعے بین الاقوامی پیغامِ عدم تشدد اور معاشرتی ہم آہنگی کو ایک نیا عہد ملنے کی امید ہے۔

بشیر بدر کو ان کی ادبی خدمات پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (1999) اور پدم شری جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔ وقت کے ساتھ ان کی یادداشت متاثر ہوئی، مگر ان کی شاعری آج بھی قاری کے دل میں زندہ ہے۔

ستر کی دہائی میں زمینداروں اور ساہوکاروں کے خلاف مہمات نے شیبو سورین کو قبائلی برادری کا ہیرو بنا دیا۔ انہوں نے قبائلی زمینوں کی واپسی اور استحصال کے خلاف آواز بلند کی۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ آج بھی ریاست کی سب سے مضبوط سیاسی جماعت ہے۔

بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کے ارکان پارلیمنٹ نے وزیراعظم کی قائدانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ میٹنگ میں آپریشن سندور اور آپریشن مہادیو کی مشترکہ کامیابی پر خوشی کا اظہار۔

فنا نظامی کانپوری کی شاعری فقط الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ایک فکری تحریک ہے جو خودی، حیا، غیرت اور حق پرستی کی تعلیم دیتی ہے۔ وہ اردو شاعری میں ایک ایسی آواز ہیں جس نے رسمیات کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور انسان کو اس کی اصل پہچان یاد دلائی۔

اڈانی گروپ نے اس وضاحت کے ذریعے اپنی مستقبل کی حکمت عملی واضح کر دی ہےکہ صاف توانائی کے شعبے میں پیش رفت بغیر کسی چینی شراکت دار کےہوگی۔