Urdu Conclave 2026

Habiburrahman




Bharat Express News Network


روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں مغربی ممالک روس پر شدید پابندیاں لگا چکے ہیں لیکن ہندوستان نے اپنے معاشی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے روسی تیل کی خریداری جاری رکھی ہے، جس پر اب امریکہ کی طرف سے سخت رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔

بھارت اور فلپائن کے درمیان تعلقات تاریخی بنیادوں اور مشترکہ جمہوری اقدار پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون مختلف شعبوں میں جاری ہے، جن میں دفاع، تجارت، سرمایہ کاری اور ثقافتی تبادلہ شامل ہیں۔

ٹرمپ کا غیر رسمی اور متنازعہ انداز ایک بار پھر عوامی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ جہاں ایک طرف وہ اپنی ٹیم کی تعریف کرتے دکھائی دیتے ہیں، وہیں ان کے الفاظ اکثر ان پر سیاسی تنقید کی شکل میں پلٹ آتے ہیں۔ کیرولین لیویٹ کے بارے میں ان کا بیان بھی کچھ ایسا ہی ہے، جس نے تعریف سے زیادہ تنازع کو جنم دیا۔

فراز کی شاعری میں تین بڑے عناصر رومان، مزاحمت اور احتجاج نمایاں ہیں۔ وہ ایک ساتھ رومانوی، جدید، کلاسیکی اور انقلابی شاعر کے طور پر ابھرتے ہیں۔ انہوں نے عشق و محبت، جدائی اور قربت کے ایسے لطیف اور پیچیدہ احساسات کو شعری پیرایہ دیا جنہیں پہلے بہت کم شعرا نے اس شدت  سے بیان کیا تھا۔

وزارت داخلہ یا نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کی جانب سے جاری رپورٹ ہی مستند ذریعہ ہے۔ عوام، میڈیا اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کریں اور کسی بھی غیر مصدقہ مواد کو پھیلانے سے گریز کریں۔

یہ معاملہ نہ صرف ملک کی مالیاتی سالمیت پر سوال کھڑے کرتا ہے بلکہ کارپوریٹ شفافیت اور بینکنگ ضوابط کی خلاف ورزی پر بھی گہری تشویش پیدا کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کیس کی پیش رفت پر سب کی نظریں جمی ہوں گی۔

راہل گاندھی نے یہ بیان16 دسمبر 2022 کو اپنی بھارت جوڑو یاترا کے دوران میڈیا اور عوام کے سامنے دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’لوگ بھارت جوڑو یاترا، گہلوت، سچن پائلٹ پر سوال کرتے ہیں لیکن چین نے 2000 مربع کلومیٹر زمین پر قبضہ کر لیا، 20 جوان شہید ہوئے، اروناچل میں فوجیوں کو پیٹا گیا، اس پر کوئی سوال نہیں کرتا۔‘‘

پولیس کے مطابق عمر انصاری کو عدالت میں جعلی دستاویزات پیش کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ معاملہ ان کے والد مختار انصاری کی ضبط شدہ جائیداد سے متعلق ایک عرضی سے جڑا ہوا ہے، جس کے ذریعے وہ جائیداد کو چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔

شیبو سورین کے انتقال سے ہندوستانی سیاست میں قبائلی حقوق کے ایک عظیم علمبردار کی کمی محسوس کی جا رہی ہے، جنہوں نے اپنے عزم اور جدوجہد سے جھارکھنڈ کی شناخت کو قائم کیا اور قبائلی برادری کو سیاسی خودمختاری کی راہ دکھائی۔

شیبو سورین نے اپنے چار دہائیوں پر محیط سیاسی کیریئر میں آٹھ بار لوک سبھا اور دو بار راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر خدمات انجام دیں۔ شیبو سورین کے انتقال سے جھارکھنڈ نے نہ صرف ایک تجربہ کار سیاسی رہنما بلکہ قبائلی حقوق کی ایک توانا آواز کو کھو دیا ہے۔