Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس نے واضح کیا کہ گرو تیغ بہادر جی کی وراثت صرف سکھ برادری تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ریاست بھر کے تمام طبقات اور ’’نانک نام‘‘ سے وابستہ ہر فرد تک پہنچائی جائے گی۔

چیئرمین انڈین مسلمس فار سول رائٹس نے امتِ مسلمہ، عالمی انصاف پسند قوتوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سے اپیل کی کہ وہ اس جارحیت کے خلاف متحد آواز بلند کریں اور جنگ کے بجائے سفارتی حل، مکالمے اور بین الاقوامی انصاف کی حمایت کریں۔

یہ شہری جنگل حیاتیاتی تنوع کو فروغ دے گا، گنگا کے کنارے کو مضبوط کرے گا اور ماحولیاتی توازن بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اندازہ ہے کہ تیسرے سال سے میونسپل کارپوریشن کو سالانہ تقریباً 2 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوگی، جو ساتویں سال تک بڑھ کر 7 کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

یہ اجلاس مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں طلب کیا گیا ہے، جہاں امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر فضائی کارروائیوں کے بعد حالات سنگین ہو گئے ہیں۔

مدورئی میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے ’’ترقی یافتہ بھارت کے لیے ترقی یافتہ تمل ناڈو‘‘ کا نعرہ دیا اور ریاست میں شمولیتی ترقی کے لیے مرکز کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ 

سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق ایران میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ دارالحکومت تہران کے علاوہ اصفہان اور زنجان میں بھی بڑے اجتماعات منعقد ہوئے۔ شہر قم میں واقع حرم حضرت معصومہ پر ’’مرگ بر امریکہ‘‘ اور ’’مرگ بر اسرائیل‘‘ کے نعرے لگائے گئے۔ اسی طرح جمکران مسجد کے گنبد پر علامتی طور پر سرخ ’’پرچم انتقام‘‘ لہرا دیا گیا۔

آیت اللہ خامنہ ای ہفتے کے روز مبینہ طور پر امریکی۔اسرائیلی افواج کے حملے میں ہلاک ہوئے۔ وہ 1989 سے ایران کی قیادت کر رہے تھے، جب بانی انقلاب امام خمینی کے انتقال کے بعد انہوں نے منصب سنبھالا تھا۔

اپنے پہلے سرکاری بیان میں انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کو روسی وفاق میں ایک ’’نمایاں مدبر رہنما‘‘ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی ایشیا میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ میزائل حملوں کے بعد کشیدگی عروج پر ہے۔

سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری اور خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی نے کہا: ’’امریکیوں نے ایرانی عوام کے دل میں خنجر گھونپا ہے اور ہم ان کے دل میں خنجر گھونپیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی فوجی کارروائی پہلے سے زیادہ سخت ہوگی اور امریکہ و اسرائیل یہ نہ سمجھیں کہ وہ حملہ کر کے بچ نکلیں گے۔

جوابی کارروائی میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ریاستوں میں موجود بعض امریکی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کیے ہیں۔ دارالحکومت تہران سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر عالمی برادری کی نظریں سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں ممکنہ سفارتی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔