Habiburrahman
Bharat Express News Network
Nepal Politics: نیپال کے نئے وزیراعظم کے طور پر بالیندر شاہ کو بحال کرنی ہوگی ریاست کی ساکھ، سیاسی استحکام عوام کی بنیادی خواہش
راشٹریہ سواتنتر پارٹی کو پارلیمنٹ میں تقریباً دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی ہے، جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ اس اکثریت کے ساتھ پارٹی آئینی ترامیم بھی کرسکتی ہے۔ تاہم اس بات پر خدشات موجود ہیں کہ آیا پارٹی طویل مدت تک متحد رہ پائے گی یا نہیں۔ شاہ کی مقبولیت اور پارٹی سربراہ روی لامیچھانے کی تنظیم پر مضبوط گرفت نے نوجوان ووٹروں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا جو روایتی جماعتوں کے حامی تھے لیکن اپنے رہنماؤں سے مایوس ہو چکے تھے۔
India pays tribute to Khamenei: آیت اللہ خامنہ ای کو بھارت کی جانب سے خراج عقیدت، وزارت خارجہ کا بغیر معلومات کے تبصرہ کرنے سے گریز کا مشورہ
رندھیر جیسوال نے کہا کہ تعزیتی کتاب کھلنے کے پہلے ہی دن خارجہ سکریٹری نے یہ رسمی کارروائی مکمل کر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی سطح پر تبصرہ کرنے سے پہلے ضروری حقائق سے آگاہی حاصل کرنی چاہیے۔
No shortage of fuel oil: مغربی ایشیا کشیدگی کے باوجود پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی کوئی کمی نہیں: ہردیپ سنگھ پوری
وزارت ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی نے ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈز کو ہدایت دی ہے کہ عارضی طور پر ہوٹل اور ریستوران شعبے میں بایوماس، آر ڈی ایف پیلیٹس اور مٹی کے تیل یا کوئلے کو ایک ماہ تک متبادل ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔
Air India seeks relaxation in rules: مشرق وسطیٰ کشیدگی کے درمیان ایئر انڈیا نے کی پرواز ڈیوٹی قوانین میں نرمی کی درخواست
خاص طور پر ایران اور عراق کی فضائی حدود سے بچنے کی وجہ سے ایئر انڈیا کی کئی طویل فاصلے کی پروازوں کا وقت کافی بڑھ گیا ہے، جس کے باعث اس ہفتے ایئر لائن کو چند پروازیں منسوخ بھی کرنا پڑیں۔ رپورٹ کے مطابق ایئر انڈیا کی یہ تجویز فی الحال ڈی جی سی اے کے زیر غور ہے اور ریگولیٹر اس کا جائزہ لے رہا ہے۔
India’s biggest shield: غیر ملکی پچوں پر بھارت کے لیے مضبوط ڈھال بن کر کھیلنے والا تیز گیندباز محمد سراج
سراج کو ایک ٹیم مین کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ بغیر تھکے طویل اسپیل کر سکتے ہیں اور ٹیم کی ضرورت کے وقت ہمیشہ دستیاب رہتے ہیں۔ عام طور پر کسی بھی تیز گیندباز کے لیے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کے قریب رفتار سے طویل اسپیل کرنا مشکل ہوتا ہے، مگر سراج اس چیلنج کو بخوبی نبھاتے ہیں۔
Energy Security Compromised: ’’پارلیمنٹ میں ایل پی جی کی قلت کے مسئلے پر بیان دینے کی اجازت نہیں دی گئی‘‘ ایل پی جی کی کمی پر راہل گاندھی کا اظہار تشویش
راہل گاندھی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایل پی جی کا مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے اور وزیراعظم نریندر مودی کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ شہریوں کے مفادات اور توانائی کی ضروریات محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایندھن کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے کیونکہ بھارت کی توانائی سلامتی متاثر ہو چکی ہے۔
Adani Foundation Initiative: اڈانی فاؤنڈیشن کی پہل: مرزا پور ضلع میں صحت عامہ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے 2.38 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری
حکام کے مطابق اس اقدام سے علاقے میں تشخیصی صلاحیت اور طبی خدمات کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس سے نہ صرف سرکاری صحت کے نظام کو تقویت ملی ہے بلکہ مقامی لوگوں کے لیے بہتر اور آسان طبی سہولتوں تک رسائی بھی ممکن ہوئی ہے۔
Priyanka Gandhi on LPG shortage: ایل پی جی کی مبینہ قلت پر پرینکا گاندھی کے خدشات، کہا-’’امید ہے وزیراعظم درست ہوں مگر صورتحال لگ رہی ہے مختلف‘‘
حکومت کا کہنا ہے کہ اٹھائے گئے اقدامات کے بعد ملک میں گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا ہے اور دستیاب پیداوار کو گھریلو صارفین تک پہنچانے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
PM Modi’s Kolkata rally: بنگال بی جے پی کو 14 مارچ کی کولکاتا ریلی میں ریکارڈ بھیڑ کی امید، وزیر اعظم مودی کریں گے خطاب
بی جے پی کے ریاستی نائب صدر راجو بنرجی نے ریاست کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال میں امن و قانون کی صورتحال خراب ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ممتا بنرجی آئین اور قانون کی حکمرانی کا احترام نہیں کرتیں اور اسی وجہ سے وہ اکثر بڑے بڑے دعوے کرتی ہیں۔
Amit Shah hit out at Rahul Gandhi: لوک سبھا میں امت شاہ کا راہل گاندھی پر سخت حملہ، کہا-’’بولنے کا موقع ملتا ہے تو جرمنی اور انگلینڈ میں ہوتے ہیں‘‘
امت شاہ نے اپوزیشن کی جانب سے اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا اقدام پارلیمانی ادارے کے وقار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً چار دہائیوں کے بعد پہلی بار لوک سبھا کے اسپیکر کے خلاف ایسی قرارداد پیش کی گئی ہے، جو پارلیمانی سیاست کے لیے افسوسناک ہے۔




