Bharat Express DD Free Dish

Income Tax Rules 2026: مرکز نے انکم ٹیکس قوانین 2026 کے لیے جاری کیا نوٹیفکیشن، ریٹرن فائل کرنا ہوا مزید آسان

ماہرین کے مطابق یہ نئے قواعد بھارت کے ٹیکس نظام کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہیں، جس سے نہ صرف ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھے گی بلکہ سرمایہ کاری اور مالیاتی سرگرمیوں کی بہتر نگرانی بھی ممکن ہو سکے گی۔

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے جمعہ کے روز انکم ٹیکس قوانین 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے ذریعے نئے انکم ٹیکس قانون 2025 کے نفاذ کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ یہ نیا نظام یکم اپریل 2026 سے نافذ ہوگا، جس میں شفافیت، سخت انکشافات اور بہتر تعمیل پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز نے ای-گزٹ میں ان قواعد کو شائع کیا ہے، جو پرانے قوانین کی جگہ لیں گے اور مالی سال 2026-27 کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کریں گے۔ ان قواعد کا مقصد ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے عمل کو آسان بنانا اور کیپیٹل گین، شیئر بازار لین دین اور غیر مقیم ہندوستانیوں سے متعلق رپورٹنگ کو مزید سخت کرنا ہے۔ نئے قواعد کے تحت ہاؤس رینٹ الاونس میں اہم تبدیلی کی گئی ہے۔ اب بنگلورو، حیدرآباد، پونے اور احمد آباد کے رہائشی بھی اپنی تنخواہ کے 50 فیصد تک ایچ آر اے کا دعویٰ کر سکیں گے، جبکہ پہلے یہ سہولت صرف ممبئی، دہلی، چنئی اور کولکاتا جیسے بڑے شہروں تک محدود تھی۔ دیگر شہروں کے لیے یہ حد اب بھی 40 فیصد برقرار رکھی گئی ہے۔

شفافیت کے لیے نئے تقاضے

اب ٹیکس دہندگان کو ایک مخصوص فارم میں اپنے مکان مالک کے ساتھ تعلق کی تفصیلات ظاہر کرنا لازمی ہوگا، جس سے نظام میں شفافیت مزید بڑھے گی۔ سرکاری بیان کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد کوئی نیا ٹیکس عائد کرنا نہیں بلکہ نگرانی اور شفافیت کو بہتر بنانا ہے۔ نئے قوانین میں اسٹاک ایکسچینجز کے لیے ڈیریویٹیو ٹریڈنگ کے پلیٹ فارم کے طور پر تسلیم کیے جانے کے لیے سخت شرائط مقرر کی گئی ہیں۔ ایکسچینجز کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا سے منظوری لینا ہوگی اور تمام لین دین کا تفصیلی ریکارڈ رکھنا ہوگا، جس میں صارفین کے پین اور منفرد شناختی نمبر شامل ہوں گے۔ انہیں سات سال تک آڈٹ ٹریل محفوظ رکھنا ہوگا اور ہر ماہ ٹیکس محکمے کو رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔

کیپیٹل گین کے اصول واضح

نئے قواعد میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اثاثوں کی ملکیت کی مدت کی بنیاد پر کیپیٹل گین کو قلیل مدتی یا طویل مدتی کیسے قرار دیا جائے گا۔ 2016 کی انکم ڈیکلریشن اسکیم کے تحت ظاہر کیے گئے اثاثوں کے لیے بھی مختلف اصول لاگو ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ نئے قواعد بھارت کے ٹیکس نظام کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہیں، جس سے نہ صرف ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھے گی بلکہ سرمایہ کاری اور مالیاتی سرگرمیوں کی بہتر نگرانی بھی ممکن ہو سکے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read