Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


ایرانی میڈیا کے مطابق 28 فروری سے جاری کشیدگی میں امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم 1,348 شہری ہلاک ہوئے، جن میں 233 خواتین اور 202 بچے شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ 19,734 شہری تنصیبات متاثر ہوئیں، جن میں ہزاروں رہائشی مکانات، سینکڑوں تجارتی عمارتیں، طبی مراکز اور اسکول شامل ہیں۔

ڈاکٹر نیتا ایم امبانی کو اڈیشہ کے شہر بھونیشور میں واقع کلنگا انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل ٹیکنالوجی کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ (D.Litt) سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز انہیں تعلیم، صحت، کھیل، دیہی ترقی، فن و ثقافت اور سماجی خدمت کے میدان میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ 

عیدالفطر اسلامی تقویم کے سب سے اہم تہواروں میں شمار ہوتی ہے، جو مقدس مہینے رمضان کے اختتام پر منائی جاتی ہے۔ یہ تہوار صرف خوشی کا موقع نہیں بلکہ شکرگزاری، اخوت اور سماجی ہم آہنگی کا مظہر بھی ہے۔ رمضان کے دوران مسلمان روزہ رکھ کر صبر، برداشت اور تقویٰ کی تربیت حاصل کرتے ہیں، جبکہ عید کا دن ان روحانی مشقوں کے صلے کے طور پر منایا جاتا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق ’’اسمال ہائیڈرو پاور ڈیولپمنٹ اسکیم‘‘ کو مالی سال 2026-27 سے 2030-31 تک نافذ کیا جائے گا۔ اس کے تحت 1 سے 25 میگاواٹ صلاحیت کے منصوبے مختلف ریاستوں میں قائم کیے جائیں گے، خاص طور پر پہاڑی اور شمال مشرقی علاقوں میں جہاں اس طرح کے منصوبوں کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ان علاقوں میں اس اسکیم کے ذریعے توانائی کی دستیابی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

یہ منصوبہ پی ایم گتی شکتی کے تحت اقتصادی اور لاجسٹک ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے ساتھ زرعی تجارت، سیاحت اور علاقائی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دے گا، جس سے اتر پردیش میں مجموعی ترقی کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔

حکومت نے تسلیم کیا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس کا اثر ہندوستان کی ایل پی جی سپلائی پر بھی پڑ رہا ہے۔ مجموعی طور پر حکومت کا کہنا ہے کہ جہاں خام تیل اور دیگر ایندھن کی فراہمی مستحکم ہے، وہیں ایل پی جی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو کم سے کم دشواری کا سامنا ہو۔

وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی قیادت میں ریاست میں حکمراں بی جے پی اتحاد مسلسل تیسری بار اقتدار حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ کانگریس پارٹی واپسی کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ 

آسام میں انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور آنے والے دنوں میں تمام بڑی جماعتیں اپنی پوری طاقت کے ساتھ انتخابی مہم میں حصہ لیں گی۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ ’’واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور امن بحال کرنے کے لیے نئی اور سنجیدہ سفارتی کوششوں کی فوری ضرورت ہے۔

واقعے کے بعد وکلا برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ عدالتوں کا فوری سیفٹی آڈٹ کیا جائے، پرانے پنکھوں اور برقی آلات کو تبدیل کیا جائے اور عمارت کی مرمت یقینی بنائی جائے تاکہ آئندہ ایسے خطرناک حادثات سے بچا جا سکے۔