نئی دہلی: روحانی پیشوا آچاریہ پرمود کرشنم کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ان سے فون پر بات کر کے ان کی خیریت دریافت کی۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’’بھارت کے معزز وزیراعظم نریندر مودی نے میری خیریت پوچھی، اس کے لیے میں ان کا دل سے شکر گزار ہوں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مودی پر تنقید کرنا آسان ہے، مگر ’’مودی بننا بہت مشکل ہے۔‘‘
भारत के “यशस्वी”
प्रधानमंत्री आदरणीय @narendramodi जी द्वारा,
आज फ़ोन कर के मेरी कुशल क्षेम जानने के लिये आत्मीय आभार और साधुवाद,
मोदी की आलोचना करना बड़ा आसान है,
लेकिन “मोदी” बनना बड़ा “मुश्किल” है. @PMOIndia— Acharya Pramod (@AcharyaPramodk) March 20, 2026
وزیراعظم کا دوستانہ رویہ
وزیراعظم نریندر مودی مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے رابطہ برقرار رکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ روحانی رہنما اور شری کلکی دھام کے سربراہ آچاریہ پرمود کرشنم نے بتایا کہ وزیراعظم نے ذاتی طور پر فون کر کے ان کی صحت اور خیریت کے بارے میں دریافت کیا۔ یہ بات چیت دونوں کے درمیان قریبی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔
کلکی دھام سے جڑا تعلق
وزیراعظم نریندر مودی نے 19 فروری 2024 کو اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں شری کلکی دھام کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ یہ عظیم الشان مندر کلکی اوتار کے نام سے منسوب ہے، اور اس موقع پر مودی نے مندر کے ماڈل کی نقاب کشائی بھی کی تھی۔ آچاریہ پرمود کرشنم اس مندر کے تعمیراتی ٹرسٹ کے چیئرمین ہیں، اور مستقبل میں یہ مقام مذہبی سیاحت کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔
سیاسی اور ذاتی تعلقات
آچاریہ پرمود کرشنم ماضی میں کانگریس پارٹی سے وابستہ رہے ہیں، تاہم کلکی دھام کے منصوبے کے سلسلے میں ان کے وزیراعظم مودی سے قریبی روابط قائم ہیں۔ وہ اس سے قبل بھی مندر کی تعمیر کی پیش رفت سے متعلق رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر چکے ہیں، اور دونوں کے درمیان وقتاً فوقتاً ملاقاتیں اور تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ حالیہ فون کال بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو دونوں شخصیات کے درمیان بہتر تعلقات اور باہمی احترام کو ظاہر کرتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


