Bharat Express DD Free Dish

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


اترکاشی کے دھرالی علاقے میں ہوئی تباہی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پانی کی رفتار اور ملبے کے دباؤ نے لمحوں میں سب کچھ تہس نہس کر دیا۔

وائٹ ہاؤس کی سابق پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے موزوں قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں سے لاکھوں زندگیاں بچائی گئیں۔تاہم، ان دعوؤں پر بین الاقوامی سطح پر ملے جلے ردعمل سامنے آ رہے ہیں

انہوں نے آئندہ دنوں میں فلپائن کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہماری مستقل دوستی اور مضبوط دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے مقصد سے بات چیت جامع ہوگی۔ اس سے قبل فلپائن کے صدر کا راشٹرپتی بھون میں باضابطہ استقبال کیا گیا۔

کیا ملک کے دفاع سے جڑے اتنے حساس ادارے میں اندرونی سکیورٹی کی بڑی چوک ہو چکی ہے؟

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے بہار ووٹر لسٹ سے متعلق SIR پر اپوزیشن کے احتجاج کے بارے میں کہا، ’’یہ احتجاج صرف SIR کے خلاف نہیں، بلکہ بھارت کے جمہوریت کے تحفظ کے لیے ہے۔  مہاراشٹر میں کیا ہوا، وہ بھی دیکھا۔ بہار میں SIR کے نام پر 65 لاکھ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے۔ یہ جمہوریت کا واضح قتل ہے۔ ہم عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘‘

"ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بینکوں نے ڈیفالٹ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کیا کارروائی کی، اگر کی بھی ہے تو۔ کیا انہوں نے کسی تحقیقاتی ایجنسی میں ان کمپنیوں کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کے لیے کوئی شکایت درج کرائی؟"

پی ایم نریندر مودی کو آپریشن سندور کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی گئی۔ بی جے پی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے ان کی قیادت کو سراہا۔ اجلاس کے دوران ارکان کی جانب سے تالیاں اور ہر ہر مہادیو کے نعرے لگائے گئے۔

ریاست کے 21 اضلاع سیلاب سے متاثر ہیں اور لکھنؤ میں وقفے وقفے سے بارش ہو رہی ہے۔ تاہم اندازہ ہے کہ 6 اگست سے بارش میں کمی آئے گی۔ اس کے بعد ریاست میں کہیں بھی شدید بارش کا امکان نہیں ہے، لیکن منگل کے روز کئی اضلاع میں شدید بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

لال قلعہ کی سیکورٹی میں سنگین کوتاہی سامنے آئی ہے۔ سیکورٹی ٹیم ڈمی بم کو نہ پکڑ سکی، جس پر 7 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے، جب کہ 5 بنگلہ دیشی شہری گرفتار کیے گئے ہیں۔

یہ وہ علاقہ ہے جو بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن 1993 کی جنگ میں آرمینیائی افواج کے قبضے میں آ گیا۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد یہ علاقہ ایک پیچیدہ تنازع کا مرکز بن گیا۔