Bharat Express DD Free Dish

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہوتے ہی ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی۔ اپوزیشن نے SIR کے خلاف نعرے بازی کی، جس کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بھارت کی ثقافت میں ندیاں صرف جغرافیائی نہیں، بلکہ روحانی اور تہذیبی اہمیت بھی رکھتی ہیں۔ اور جب ان کے نام پر عمارتوں یا مقامات کے نام رکھے جائیں، تو اسے سیاست کی عینک (چشمے) سے نہیں دیکھنا چاہیے۔

اس کثیر المنزلہ کمپلیکس میں 180 سے زائد اراکین پارلیمنٹ ایک ساتھ قیام کریں گے۔ اس کا ایک مالی پہلو بھی ہے — ماضی میں اراکین پارلیمنٹ کے لیے مناسب رہائش کی کمی کی وجہ سے حکومت کے اخراجات میں اضافہ ہوتا تھا۔

پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے موبائل فونز اور گاڑیوں کی حفاظت کے حوالے سے محتاط رہیں، اور مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع قریبی تھانے کو دیں۔

رام رتھ-شروَن ایودھیا یاترا’ کے تحت ہر ماہ ایک یا دو بار مفت بس سروسز چلائی جاتی ہیں، جن کا تمام خرچ خود ڈاکٹر راجیشور سنگھ برداشت کرتے ہیں۔ اس یاترا کا مقصد اُن بزرگوں اور خواتین کو درشن کا موقع فراہم کرنا ہے جن کے لیے یہ صرف ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔

تفتیش کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا کہ انہوں نے نوئیڈا، غازی آباد، دہلی، گڑگاؤں، NCR میں متعدد مقامات پر موبائل ٹاورز سے ریڈیو رسیور یونٹس، بیٹریاں اور دیگر قیمتی سامان چوری کیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ نوئیڈا، غازی آباد وغیرہ سے چوری شدہ سامان اپنے ساتھی حاتم اور محسن کے ساتھ مل کر دہلی میں بیچتے ہیں۔

آپ ایک ایسے صحافی کوجو مہینوں سے دن رات اپنا کام کر رہا ہو، قتل نہیں کر سکتے اور بعد میں صرف یہ کہہ کر بری ہو جائیں کہ "وہ حماس کے لیے کام کرتا تھا۔"

وینوگوپال نے کہا کہ ہم مہارت اور قسمت کے باعث بچ گئے، مگر مسافروں کی زندگی صرف قسمت پر نہیں چھوڑی جا سکتی۔ میں ڈی جی سی اے (ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن) اور وزارتِ شہری ہوا بازی سے اپیل کرتا ہوں کہ اس واقعے کی فوری تحقیقات کی جائیں،

حادثے کی تفصیلات دیتے ہوئے ایڈیشنل ڈی سی پی ساؤتھ ایسٹ، ایشوریا شرما نے بتایا:"یہاں ایک پرانا مندر ہے اور اس کے ساتھ کچے مکانات ہیں، جہاں کباری لوگ رہتے ہیں۔ رات بھر ہونے والی موسلا دھار بارش کی وجہ سے دیوار گر گئی۔

8 اگست 1942 کو مہاتما گاندھی کی قیادت میں شروع ہونے والی 'بھارت چھوڑو تحریک'، بھارت کی آزادی کی جدوجہد کا ایک اہم موڑ تھا۔ یہ انگریزوں سے فوراً بھارت چھوڑنے کی ایک ملک گیر اپیل تھی، جس کا نعرہ تھا: "کرو یا مرو"۔