Bharat Express DD Free Dish

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


مہاراشٹرا ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، پچھلے 24 گھنٹوں میں بارش اور سیلاب کے باعث 6 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ناندیڑ ضلع میں 5 افراد لاپتہ ہیں، جہاں سیلاب جیسی صورتحال ہے۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں 18 این ڈی آر ایف اور 6 ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔

فی الحال دہلی پولیس ای میل کے ذریعے دی گئی دھمکیوں کے سورس کی جانچ کر رہی ہے۔ سائبر کرائم یونٹس اس بات کی تحقیق کر رہی ہیں کہ ان دھمکیوں کے پیچھے کون سا فرد یا گروہ ملوث ہے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان احمد اللہ متقی نے ایکس  پر ایک پوسٹ میں ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کی اور اس سڑک حادثے کو حالیہ دنوں کے سب سے المناک حادثات میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے لکھا:“ہرات میں ایک بس ٹرک اور موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں 71 افراد شہید ہو گئے۔”

یہ بیان واقعے کی سنگینی اور سیکیورٹی کی خامیوں کی جانب واضح اشارہ کرتا ہے۔ اگر ایک عام شکایت کنندہ کے بھیس میں آیا شخص وزیراعلیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور حملہ کر سکتا ہے، تو یہ نہ صرف ایک سیکورٹی بریچ ہے بلکہ جمہوری اداروں کی شفافیت اور عوامی رابطے کے نظام پر بھی سوال کھڑا کرتا ہے۔

بل کے مطابق:"اگر کوئی وزیر اپنے عہدے پر رہتے ہوئے کسی قانون کے تحت جرم کے الزام میں گرفتار ہوتا ہے اور 30 دن کی مدت تک حراست میں رہتا ہے، اور اس جرم کی سزا 5 سال یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے،

پارلیمنٹ میں این ڈی اے کی مضبوط عددی حیثیت کو دیکھتے ہوئے، سی پی رادھا کرشنن کی کامیابی کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ ان کی امیدواری پر این ڈی اے کے تمام اتحادی متفق نظر آتے ہیں، اور ان کے حق میں بڑی تعداد میں ارکان پارلیمان کی موجودگی کی توقع ہے۔

۔یہ زلزلہ ایسے وقت آیا ہے جب ہماچل پردیش پہلے ہی قدرتی آفات کا سامنا کر رہا ہے۔ بادل پھٹنے کے واقعات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ پہلے اتراکھنڈ کے دھرالی اور ہرشل سے لے کر کلو تک بادل پھٹنے کی خبریں آ رہی تھیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے عوام اپنی سرزمین اور آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں اور اب وہ کسی بھی صورت میں اپنے علاقوں کو نہیں چھوڑیں گے۔

سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ اس سڑک پر 12 گھنٹے طویل ٹریفک جام لگتا ہے۔ عدالت نے 14 اگست کو اس معاملے پر سماعت میں دلچسپی نہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ جب سڑکیں اچھی حالت میں نہیں ہیں تو عوام سے ٹول کیسے لیا جا سکتا ہے؟ لوگ لمبے جام میں پھنسنے پر مجبور ہیں۔

لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ سوال و جواب کے دوران اپوزیشن کے اراکین مسلسل نعرے بازی کرتے رہے اور کچھ ممبران ویل تک آ گئے۔ ا