Bharat Express DD Free Dish

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مزید کہا کہ چندرشیکھر آزاد کی قربانیوں کو یاد کرتے ہی آج بھی ہر بھارتی کا دل قومی جذبے سے سرشار ہو جاتا ہے۔ امت شاہ نے انہیں ایک عظیم، ناقابلِ شکست اور بہادر انقلابی قرار دیتے ہوئے ان کی برسی پر احترام کے ساتھ سلام پیش کیا۔

رونے کے دوران کیجریوال نے کہا کہ ’’کیجریوال بدعنوان نہیں ہے‘‘ اور عدالت نے ثابت کر دیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کے لیے آئین کے ساتھ اس طرح کا کھیل نہ کھیلا جائے۔

پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ اس قانونی اور سیاسی جدوجہد کے دوران کروڑوں بھارتی شہریوں نے ان کا ساتھ دیا، جس پر وہ دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہیں۔ بیان کے مطابق عام آدمی پارٹی ملک کی خدمت کے لیے ایمانداری کے ساتھ جدوجہد کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی جاری رکھے گی۔

بھارت اگر سیمی فائنل میں جگہ بنانا چاہتا ہے تو اسے ہر حال میں ویسٹ انڈیز قومی کرکٹ ٹیم کے خلاف فتح حاصل کرنا ہوگی۔ کولکاتا کے ایڈن گارڈنز میں کھیلے جانے والے اس اہم مقابلے میں جو ٹیم کامیاب ہوگی وہ براہِ راست سیمی فائنل میں پہنچ جائے گی۔

بھارتی ثقافت میں کالا ٹیکا یا نظر کا ٹیکا ایک قدیم اور عام روایت سمجھی جاتی ہے۔ اس کا مقصد خوشی کے مواقع پر بری نظر یا منفی توانائی سے حفاظت کرنا ہوتا ہے۔ عموماً اسے گال یا کان کے پیچھے لگایا جاتا ہے تاکہ حد سے زیادہ تعریف،

وزیرِ اعظم نے ایک سنسکرت  سبھا شیتم کوبھی شیئر کیا، جس میں شجاعت اور بہادری کی عظمت بیان کی گئی ہے۔ اس قول کے مطابق تینوں جہانوں میں بہادری سے بڑھ کر کوئی صفت نہیں اور یہی قوت پوری کائنات کے تحفظ اور بقا کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔

پاکستان کے اس وقت ایک پوائنٹ ہے۔ اگر پاکستان ہفتہ کے روز سری لنکا کے خلاف اپنے میچ میں بڑی کامیابی حاصل کر لیتا ہے تو اس کے بھی تین پوائنٹس ہو جائیں گے۔ ایسی صورت میں بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر پاکستان سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

فلم اکیس کی کہانی 1971 کی جنگ کے ہیرو ارون کھیترپال کی حقیقی زندگی سے متاثر ہے، جنہوں نے بسنتَر کی تاریخی جنگ میں غیر معمولی جرات اور قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض 21 برس کی عمر میں وطن کے لیے اپنی جان قربان کی اور بعد ازاں ملک کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز حاصل کیا۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جمہوری نظام کے تین بنیادی ستون یعنی مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ ملک کے نظام کو چلانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک اخبار کے ذریعے انہیں کتاب کے مندرجات کے بارے میں معلوم ہوا،

نوجوانوں میں خاصا جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ تربیت حاصل کرنے کے بعد روزگار پانے والے نوجوانوں نے اڈانی فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام دیہی اور نیم شہری علاقوں کے نوجوانوں کے لیے ترقی کے نئے راستے کھول رہے ہیں۔