Bharat Express DD Free Dish

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


کانگریس لیڈر نے کہا کہ ریاست کے عوام کی آواز دبائی جا رہی ہے اور ان کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی مخالفین کے خلاف طاقت کا استعمال، عدالتی کارروائیوں کے بغیر گرفتاریاں اور طاقت کا غیر مناسب استعمال عوام کے لیے غیر قابل قبول ہے۔

وزیر اعظم نے خواتین کی طاقت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سائنس، ٹیکنالوجی، کھیل، فوج اور فنون سمیت ہر شعبے میں خواتین نے اپنی مضبوط پہچان بنائی ہے۔ پچھلے 11 سالوں میں خواتین کے بااختیار بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ سیاست اور قانون سازی میں خواتین کی نمائندگی ابھی بھی کم ہے۔

اس وقت کےکیرالہ، آسام اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کے لیے صبح 7 بجے سے ووٹنگ جاری ہے۔ آسام میں 126، کےریالہ میں 140 اور پڈوچیری میں 30 سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالا جا رہا ہے۔ ووٹنگ صبح 7 بجے سے شام 5 بجے تک ہوگی اور نتائج 4 مئی کو اعلان کیے جائیں گے۔

ریپبلکن کانگریس کے لیڈروں نے اس وقت  نیٹو کی اہمیت پر زور دیا۔ سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین راجر ویکر اور ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجرز نے کہا، "ایک مضبوط نیٹو امریکہ کے مفاد میں ہے۔

نوجوان ووٹرز بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ دکھنگاؤں ایل پی اسکول میں قائم پولنگ مرکز پر ایک نوجوان ووٹر نے کہا کہ لوگوں کو اسی پارٹی کو ووٹ دینا چاہیے جو بہتر کام کرے اور زیادہ سہولتیں فراہم کریں۔

کیرلا، آسام اورپڈوچیری میں ووٹنگ جاری ہے۔ ملک کی تینوں ریاستوں میں ووٹنگ جوش وخروش کے ساتھ ہو رہی ہے۔ شام 5 بجے تک آسام میں 84.42 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ اس کے  علاوہ کیرلا میں 5 بجے تک 75.01 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ وہیں پڈوچیری میں 5 بجے تک 86.92 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔

کیرالہ کی تمام 140 اسمبلی نشستوں پر ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ جاری ہے، جہاں 883 امیدوار میدان میں ہیں۔ ریاست میں تقریباً 2.71 کروڑ ووٹرز آج اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ حکمراں بائیں بازو کا جمہوری محاذ (ایل ڈی ایف) مسلسل تیسری بار اقتدار میں واپسی کی کوشش کر رہا ہے،

امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر منگل پانڈے کی بہادری کو پرانام کرتے ہوئے لکھا کہ 1857 کی بغاوت کو نئی توانائی دینے والے منگل پانڈے نے نوجوانوں کو مادرِ وطن کی آزادی کے لیے تحریک دی اور اپنی ثقافت پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا۔

اُپیندر رائے اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ جدید دور کی سب سے بڑی قدر آزادی ہے اور اس آزادی کو خود کو بہتر بنانے اور قوم کی ترقی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ 

بھارت کی غلامی کی وجہ بیان کرتے ہوئے اُپیندر رائے نے کہا کہ جب سکندر اعظم مقدونیہ سے بھارت کی طرف بڑھ رہا تھا، تو چانکیہ نے تمام راجاؤں سے متحد ہونے کی اپیل کی تھی، مگر آپسی اختلافات نے بھارت کو کمزور کر دیا۔انہوں نے کہا کہ برطانوی یہاں تجارت کے لیے آئے تھے، مگر انہوں نے آپسی تقسیم کا فائدہ اٹھایا اور تقریباً 200 سال تک حکومت کی۔