Bharat Express DD Free Dish

Rahmatullah




Bharat Express News Network


وقف ترمیمی قانون کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر آج دوسری بار سماعت ہونے والی تھی لیکن چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی ریٹائرمنٹ کو دیکھتے ہوئے اب اس معاملے کو جسٹس بی آر گوائی کی بنچ کے سپرد کردیا گیا ہے اور اس کیلئے نئی تاریخ 15 مئی متعین کی گئی ہے۔

اگر تمام ریاستی اسمبلیوں کے ساتھ انتخابات کرائے جاتے ہیں تو اس کے لیے 20-25 لاکھ سیکورٹی فورسز کی ضرورت ہوگی۔ ون نیشن ون الیکشن میں بڑی تعداد میں ای وی ایم (الیکٹرانک ووٹنگ مشین) کی ضرورت ہوگی۔

گورنر نے مرکزی فورسز کی تعیناتی، انکوائری کمیشن کا قیام اور ضرورت پڑنے پر آئین کی دفعہ 356 کے آپشن پر غور کرنے سمیت کئی سخت تجاویز دی ہیں۔ آرٹیکل 356 کا مطلب ریاست میں صدر راج نافذ کرنا ہے۔

شنکراچاریہ کے اس بیان سے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ راہل گاندھی اس سے قبل بھی اپنے بیانات کی وجہ سے تنازعات میں گھرے رہے ہیں، لیکن یہ پہلا موقع ہے جب انہیں کسی مذہبی تنظیم کی جانب سے عوامی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ڈاکٹر جے شنکر پہلے بھی اس معاملے پر ہندوستان کے موقف کو واضح کر چکے ہیں، جب ہندوستان کے فیصلوں سے مغرب میں تشویش پیدا ہوئی تھی۔ ایسا ہی ایک فیصلہ ہندوستان کا روس سے تیل درآمد کرنے کا اقدام تھا جب مغرب نے یوکرین کے خلاف اپنی جنگ کے دوران ماسکو پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

ایئر شو کے حصے کے طور پر، رات 9 بجے سے رات 10 بجے تک ایک خصوصی نائٹ لینڈنگ شو کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں ہندوستانی فضائیہ کی نائٹ آپریشن کی صلاحیتوں کو دکھایا گیا۔بیشتر ایئرکرافٹ نے رات میں بھی اپنی صلاحیت کا جوہر دکھایا۔

مولانا مدنی نے پہلگام واقعہ کے بعد ملکی میڈیا کی طرف سے اسے مذہبی رنگ دینے کی خطرناک سازش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح مقامی لوگوں نے مذہب سے بالاتر ہو کر حملے کے دوران اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر دہشت گردوں سے سیاحوں کو بچایا۔

آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد چار سال کی نظر بندی  جھیلنے والے میر واعظ نے خطبہ جمعہ  میں کہا کہ پہلگام کے ہولناک واقعے کے بعد رونما ہونے والے واقعات نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ جب بھی ایسی چیزیں ہوتی ہیں، یہ کشمیر کے لوگ ہی ہوتے ہیں جو ان کے ظلم و ستم کو برداشت کرتے ہیں۔

دونوں ممالک کے رہنما پرامید ہیں کہ یہ معاہدہ نہ صرف اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرے گا بلکہ عالمی سطح پر ان کی پوزیشن کو بھی بہتر بنائے گا۔رپورٹ کے مطابق، اگلے چند ہفتوں میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں طے کی گئی ہیں تاکہ حتمی ڈھانچہ تیار کیا جا سکے۔

میٹنگ ختم ہونے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس لیڈر سچن پائلٹ نے کہا کہ ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ وقت ضائع کیے بغیر ذات پات کی مردم شماری مقررہ مدت کے اندر کرائی جائے۔ تاکہ فلاحی اسکیموں کے نفاذ میں شفافیت ہو۔