امریکہ اور چین کے درمیان جاری غیر اعلانیہ کشمکش اب صرف فوجی طاقت اور سیاست تک محدود نہیں رہی، بلکہ کاروبار اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھی اس کے اثرات نظر آ رہے ہیں۔ اسی دوران دنیا کی معروف چپ ساز کمپنی این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) جینسن ہوانگ سے متعلق ایک رپورٹ نے امریکی خفیہ ایجنسیوں اور سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کردی ہے۔دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چین کی خفیہ ایجنسی نے ایک خاتون کے ذریعے امریکی ٹیکنالوجی انڈسٹری کی اہم ترین شخصیات میں شامل جینسن ہوانگ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، جینسن ہوانگ انجانے میں چین کی خفیہ ایجنسی سے مبینہ طور پر وابستہ ایک خاتون کے رابطے میں آگئے تھے۔ امریکی خفیہ اداروں کے پاس اس معاملے سے متعلق شواہد ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
کون ہے مبینہ چینی ایجنٹ ایلس ہوانگ؟
رپورٹ کے مطابق، جینسن ہوانگ کے رابطے میں ایلس ہوانگ نامی ایک خاتون تھیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایلس سنگاپور کی ڈیٹا سینٹر کمپنی میگاسپیڈ میں ایک اہم عہدے پر کام کرتی ہیں۔ وہ انگریزی زبان پر اچھی گرفت رکھتی ہیں اور چپ انڈسٹری کے کئی بڑے عہدیداروں سے ان کے رابطے ہیں۔دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین کی اہم خفیہ ایجنسی ’منسٹری آف اسٹیٹ سکیورٹی‘ نے ایلس کو جینسن ہوانگ پر نظر رکھنے اور امریکی چپ ٹیکنالوجی سے متعلق اندرونی معلومات حاصل کرنے کے مقصد سے تیار کیا تھا۔
امریکی اے آئی چپس تک رسائی کے لیے بچھایا گیا جال؟
دراصل امریکہ نے جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) چپس کی چین کو فروخت پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ان پابندیوں کا مقصد چین کو جدید ترین امریکی ٹیکنالوجی تک براہ راست رسائی سے روکنا ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایلس کے ذریعے امریکی ٹیکنالوجی سے متعلق خفیہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔اس کے مطابق، میگاسپیڈ کی ملائیشیائی معاون کمپنی نے جون 2024 سے فروری 2026 کے درمیان تقریباً 4.8 ارب ڈالر کے جدید اے آئی آلات اور این ویڈیا چپس خریدے تھے۔بتایا گیا ہے کہ یہ کمپنی جنوب مشرقی ایشیا میں ڈیٹا سینٹر قائم کرکے چین کی بڑی کمپنی علی بابا کو کمپیوٹنگ کی سہولیات کرائے پر فراہم کر رہی تھی۔ اس معاملے کو امریکی پابندیوں کے باوجود جدید اے آئی چپس تک رسائی حاصل کرنے کے ممکنہ طریقے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
A viral moment of Nvidia’s Jensen Huang having chimaek (fried chicken and beer) in South Korea may have made investors hungry as well.
Huang sent Korean fried chicken stocks soaring after his outing with Samsung’s Jay Y Lee and Hyundai’s Chung Euisun https://t.co/Qn8dxWkYmo https://t.co/xWOvZ3tvdE
— Bloomberg (@business) November 1, 2025
امریکی پارلیمنٹ میں جینسن ہوانگ سے ہوگی پوچھ گچھ
رپورٹ سامنے آنے کے بعد امریکہ کے سیاسی اور ٹیکنالوجی حلقوں میں اس معاملے پر بحث تیز ہوگئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال امریکی پالیسی سازوں کو اس معاملے سے متعلق ایک خفیہ یادداشت بھی بھیجی گئی تھی۔اب ریپبلکن رہنماؤں نے جینسن ہوانگ سے پورے معاملے پر بند کمرے میں وضاحت طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں انہیں امریکی پارلیمنٹ میں طلب کیا گیا ہے۔ ان سے ایلس ہوانگ کے ساتھ رابطوں، کاروباری ملاقاتوں اور امریکی چپ ٹیکنالوجی سے متعلق الزامات پر سوالات کیے جا سکتے ہیں۔یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ این ویڈیا دنیا کی سب سے بڑی اے آئی چپ ساز کمپنیوں میں شامل ہے۔ اس کی ٹیکنالوجی اور کاروبار امریکہ کی تکنیکی طاقت کا اہم حصہ ہیں۔ ایسے میں کمپنی کے اعلیٰ ترین عہدیدار تک مبینہ چینی جاسوسی کی رسائی کے دعووں نے امریکی سکیورٹی اداروں کی تشویش بڑھا دی ہے۔
الزامات پر این ویڈیا اور چین کا کیا ہے موقف؟
ان الزامات پر این ویڈیا کے ترجمان جان ریزو نے وضاحت پیش کی ہے۔ کمپنی کے مطابق، جینسن ہوانگ اور ایلس ہوانگ کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں معمول کی کاروباری ملاقاتیں تھیں۔ کمپنی نے صارفین کے ساتھ خفیہ معلومات شیئر کرنے کے الزامات کو بھی مسترد کیا ہے۔دوسری جانب امریکہ میں واقع چینی سفارت خانے نے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ پورا معاملہ نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کے بعد زیر بحث آیا ہے، جس میں امریکی خفیہ اداروں کے دعووں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ تاہم جینسن ہوانگ کے کسی جاسوسی جال میں پھنسنے یا خفیہ معلومات فراہم کرنے کی بات تاحال ثابت نہیں ہوئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




