ریاض: سعودی عرب کی وزارت توانائی نے اتوار کو تصدیق کی ہے کہ دارالحکومت ریاض میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ایک انتظامی عمارت پر حملے کی کوشش کی گئی۔ یہ تصدیق حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے اس دعوے کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے سعودی عرب بھر میں اہم اسٹریٹجک اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے والی چھ فوجی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ وزارت توانائی کے ایک سرکاری عہدیدار نے بیان میں کہا کہ حملے کی کوشش کے نتیجے میں عمارت پر دھماکے کے ٹکڑے گرے، جس سے اسے معمولی نقصان پہنچا۔ تاہم اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی کسی کی موت ہوئی۔ عہدیدار کے مطابق، ’’اس واقعے کے نتیجے میں عمارت پر دھماکے کے ٹکڑے گرے، جس سے معمولی نقصان ہوا، تاہم اللہ کا شکر ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ متعلقہ حکام نے فوری طور پر واقعے پر ردعمل ظاہر کیا اور ضروری اقدامات کیے۔
حوثیوں کا چھ فوجی کارروائیوں کا دعویٰ
یہ پیش رفت حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے اس دعوے کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ سریع کے مطابق، حوثی گروپ نے سعودی عرب میں اپنی نظر میں اسٹریٹجک اور فوجی اہمیت کی حامل تنصیبات پر بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے چھ فوجی کارروائیاں کیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں یمن کے خلاف سعودی جارحیت کے جواب میں کی گئیں۔ یحییٰ سریع نے کہا کہ پہلی کارروائی میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، تیل کے ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں اور آرامکو کے ایک ڈسٹلیشن ٹاور کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بقول، ’’اللہ کے فضل سے یہ کارروائی اپنے مقصد میں کامیاب رہی۔‘‘ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ دوسری کارروائی میں خریص کے علاقے میں آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ تیسری کارروائی کے دوران دوادمی علاقے میں پمپنگ اسٹیشن نمبر 8 پر حملہ کیا گیا۔ حوثی ترجمان کے مطابق، چوتھی کارروائی میں نجران کے ایک نیشنل گارڈ کیمپ میں سعودی فوجی دستوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ پانچویں کارروائی کے تحت الجوف گورنریٹ کے مشرقی علاقے میں فوجیوں کی پوزیشنوں پر تین مرحلوں میں حملے کیے گئے۔
جنگ بندی کے خاتمے کے بعد کشیدگی میں اضافہ
یہ دعوے سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔ یمن کی طویل خانہ جنگی میں لڑائی روکنے والی 2022 کی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان ایک مرتبہ پھر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ اس کے بعد سے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حملوں کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔ حوثی باغیوں نے ماضی میں سعودی ہوائی اڈوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور فوجی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


