نئی دہلی : ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری جنگ ختم کرنے کے لیے 7 اہم شرائط پیش کی ہیں۔ ان شرائط میں لبنان، یمن، عراق اور غزہ سمیت پورے خطے میں تمام فوجی کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ اس دوران چین نے ایران کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کی حمایت کرتے ہوئے تہران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ایران کی جانب سے پیش کی گئی دیگر شرائط میں غیر ملکی بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثوں کو آزاد کرنا، ایرانی بندرگاہوں پر امریکہ کی جانب سے عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور اقتصادی و سیاسی پابندیاں ہٹانا شامل ہے۔اس کے علاوہ ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ علاقوں سے امریکی فوجیوں کو واپس بلایا جائے، جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کیا جائے اور ایران کے اسلامی نظام کے خلاف امریکہ کی دھمکیوں اور دشمنی پر مبنی بیانات بند کیے جائیں۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری
ایران کا کہنا ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری ثالثی کی کوششوں کے درمیان امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ مسلسل جاری ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطے برقرار ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے تک اپنے پیغامات پہنچا رہے ہیں۔ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی اس بات چیت کو آگے بڑھانے اور سہولت فراہم کرنے کے لیے دوحہ کا دورہ کیا تھا۔دوسری جانب امریکہ کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے درمیان چین نے ایران کی خودمختاری اور سلامتی کی حمایت کی ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ چین ایران کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے۔
ایران کا بیان، اب گیند امریکہ کے پالے میں
ایران نے واضح اشارہ دیا ہے کہ اب اگلا قدم امریکہ کو اٹھانا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور جنگ ختم کرنے کے لیے ایک مسودہ تجویز بھی سامنے آ چکی ہے۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، مذاکرات سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ ایران کے مذاکرات کار اتوار کو دوحہ سے روانہ ہو گئے۔ یہ مذاکرات امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ ختم کرنے کے مقصد سے کیے جا رہے تھے۔ذرائع کے مطابق، ایرانی مذاکرات کاروں کی روانگی کا تعلق بات چیت میں کسی تعطل یا مشکل سے نہیں تھا۔ مذاکرات کے سلسلے میں امریکی فریق کو رائے اور ردعمل دینے کے لیے ایک مسودہ تجویز بھیج دیا گیا ہے۔ اس کے بعد آئندہ دنوں میں ایک اور ملاقات کا امکان بھی موجود ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ اب اس تجویز پر واشنگٹن کے جواب کا انتظار ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

