نئی دہلی: جموں وکشمیرپیپلزڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کا پارٹی کارکنان اجلاس آج پیرکے روز(2 نومبر2026) کوسری نگرکے شیرِکشمیرپارک میں منعقد ہوا۔ پارٹی کے یومِ تاسیس کے موقع پرمنعقدہ اس اجلاس میں کارکنوں اورحامیوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جبکہ پارٹی کے کئی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پرپی ڈی پی کی صدرمحبوبہ مفتی نے اپنے خطاب میں جموں وکشمیرکے لوگوں کے بارے میں مسلسل قائم شکوک وشبہات پرسوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مقامی نوجوانوں، سرکاری ملازمین اورقبائلی برادریوں کونشانہ بنایا جا رہا ہے۔
کشمیریوں کے ساتھ امتیازی رویے پرسوال
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں کومبینہ طورپرہراساں کئے جانے، مقامی ملازمین کوملازمتوں سے نکالے جانے اورقبائلی برادریوں کے خلاف کارروائیوں پرسوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ میں کشمیریوں کوکیوں مارا پیٹا جاتا ہے؟ ہمارے لوگ جیلوں میں کیوں ہیں، کشمیری افسروں کوان کی ملازمتوں سے کیوں نکالا جا رہا ہے اورہمارے قبائلی لوگوں کوان کی زمینوں سے کیوں بے دخل کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے سوال کیا، “ہمارے بارے میں اتنا شک کیوں ہے؟”
جموں وکشمیرکے ہندوستان سے الحاق کا ذکر
پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے جموں وکشمیرکے ہندوستان سے الحاق کا ذکرکرتے ہوئے شیخ محمد عبداللہ، مہاتما گاندھی اورجواہرلال نہرو کے کردارکویاد کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کشمیریوں کی وفاداری پرباربارسوال کیوں اٹھائے جاتے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے کہا، “ہندوستان ہم پرشک کیوں کررہا ہے، ہمارے اوران کے درمیان اعتماد کا اتنا بڑا فقدان کیوں ہے؟” انہوں نے کہا کہ کشمیرکے ہندوستان سے الحاق میں شیخ عبداللہ کا اہم کردارتھا۔ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے باوجود ہندوستان کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق، جموں وکشمیر کے لوگوں نے ہندوستان کے جمہوری اورسیکولراقدارکودیکھتے ہوئے ہندوستان کا انتخاب کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اس فیصلے کی مخالفت کرنے والوں کوبھی مبینہ طورپرظلم وستم کا سامنا کرنا پڑا۔ محبوبہ مفتی نے سوال کیا کہ جب یہ فیصلہ کیا گیا توکیا انہیں جن سنگھ اورہندومہاسبھا کے بارے میں معلوم نہیں تھا؟
’ان شاء اللہ‘ کہنے پرہمیں کہا جاتا ہے پاکستانی
محبوبہ مفتی نے کہا کہ صرف دوسال بعد شیخ عبداللہ نے اپنا موقف تبدیل کیا اورپاکستان کے ساتھ جانے اوررائے شماری کی بات کرنے لگے، جس کا سب سے زیادہ نقصان کشمیریوں کواٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورمیں بابا صاحب امبیڈکرجیسے رہنماؤں کو بھی ہرکشمیری پرشک ہونے لگا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج ’ان شاء اللہ‘ جیسے الفاظ بولنے پربھی ہمیں ’پاکستانی‘ قراردے دیا جاتا ہے۔ انہوں نے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی امن اورمفاہمت کی کوششوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیرکے لیے ان کی پہل سے بات چیت اورباہمی سمجھ بوجھ کا ماحول بنانے میں مدد ملی تھی۔ مرکزسے جموں وکشمیرکے لوگوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات شروع کرنے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طاقت اورپابندیوں کے ذریعے امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا، “آپ کب تک کشمیرکو بند رکھیں گے اورطاقت کے استعمال سے امن برقراررکھنے کی کوشش کریں گے؟ آپ لوگوں پرہمیشہ ڈنڈے کے زورسے حکومت نہیں کرسکتے، آپ کو ان کی آوازسننی ہوگی۔”
پی ڈی پی اٹھاتی رہے گی عوامی مسائل
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پی ڈی پی عوام کے مسائل اورتشویش کواٹھاتی رہے گی اورجموں وکشمیرکے لوگوں کی عزت، اعتماد اورسیاسی حقوق کی بحالی کے لیے کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مفتی محمد سعید نے ہمیشہ دہلی اور جموں و کشمیرکے درمیان دوریاں کم کرنے کے بارے میں سوچا اوراس کے لیے کوششیں بھی کیں۔ ان کے مطابق، وہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کوکشمیرلائے اورانہیں ایک عام کشمیری کی مشکلات سے آگاہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے جموں وکشمیرمیں امن کے لیے پاکستان کے ساتھ بات چیت کی ضرورت پربھی زوردیا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

