نئی دہلی: سردیوں کی شروعات کے ساتھ ہی دہلی-این سی آر اور شمالی ہندوستان کے کئی علاقوں میں فضائی معیار کا اشاریہ (اے کیو آئی) سنگین سطح پر پہنچ جاتا ہے۔ باہر دھند اور اسموگ دیکھ کر گھر کے اندر خود کو محفوظ تصور کرنا ایک عام خیال ہے، لیکن عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور مختلف تحقیقی مطالعات واضح کرتے ہیں کہ گھروں کے اندر بھی آلودگی کی سطح کافی زیادہ ہو سکتی ہے۔
بند دروازے اور کھڑکیاں بڑھا سکتی ہیں آلودگی
سردیوں میں سردی سے بچنے کے لیے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھنے کی وجہ سے آلودہ ذرات گھر کے اندر ہی جمع ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں گھر کو محفوظ اور آلودگی سے پاک پناہ گاہ بنانے کے لیے سائنسی اور عملی اقدامات اپنانا انتہائی ضروری ہو جاتا ہے۔
خراب ہواداری کے باعث باہر موجود باریک ذرات (پی ایم 2.5 اور پی ایم 10) گھر کے اندر جمع ہونے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ گھر کے اندر ہونے والی روزمرہ سرگرمیاں بھی آلودگی میں کئی گنا اضافہ کر سکتی ہیں۔ کھانا پکانا، اگر بتی اور دھونی جلانا نیز خشک جھاڑو لگانا نقصان دہ ذرات اور غیر مستحکم نامیاتی مرکبات (وی او سی) کی مقدار بڑھا دیتے ہیں۔
اگر بتی اور مچھر کوائل سے بھی پھیلتی ہے آلودگی
رپورٹ کے مطابق، جلتی ہوئی مچھر مار کوائل یا اگر بتی تقریباً 75 سے 100 سگریٹ کے برابر باریک آلودہ ذرات پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ضروری تیل (ایسنشیل آئل) کے ڈفیوزر بڑی مقدار میں غیر مستحکم نامیاتی مرکبات خارج کرتے ہیں، جو نظام تنفس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ہوا کے معیار پر نظر رکھنے کے لیے ایپ کا استعمال
فضائی معیار کی درست نگرانی کے لیے مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی)کی جانب سے تیار کردہ ’سمیر‘ ایپ کا استعمال کرنا چاہیے۔ یہ ایپ حقیقی وقت میں فضائی معیار سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہے۔
ایئر پیوریفائر کا انتخاب کرتے وقت ان باتوں کا رکھیں خیال
گھر کی ہوا صاف کرنے کے لیے ٹرو ہیپا فلٹر والے ایئر پیوریفائر کا استعمال سب سے مؤثر طریقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ 0.3 مائیکرون تک کے 99.97 فیصد ذرات کو فلٹر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گیسوں اور غیر مستحکم نامیاتی مرکبات کو دور کرنے کے لیے ہیپا فلٹر کے ساتھ ایکٹیویٹڈ کاربن فلٹر کا استعمال بھی انتہائی فائدہ مند ہوتا ہے۔
آئنائزر یا اوزون پیدا کرنے والے پیوریفائر سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ یہ ثانوی آلودگی پیدا کر سکتے ہیں۔ مشین کا انتخاب کرتے وقت کمرے کے سائز کے مطابق مناسب ’کلین ایئر ڈیلیوری ریٹ‘ (سی اے ڈی آر) کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے۔
سردیوں میں ہیٹر کا انتخاب بھی اہم
سردیوں میں کمرے کو گرم رکھنے کے لیے استعمال ہونے والے آلات بھی ہوا کے معیار کو متاثر کرتے ہیں۔ بلوئر یا ہیلوجن ہیٹر ہوا کو خشک کر دیتے ہیں، جب کہ آئل فلڈ ریڈی ایٹر (او ایف آر) ہوا کی نمی اور آکسیجن کو کم نہیں کرتے۔ اسی لیے انہیں نظام تنفس کی صحت کے لیے نسبتاً محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔
گھر کے اندر ہوا صاف رکھنے میں پودوں کا کردار
ٹیکنالوجی کے ساتھ قدرتی طریقے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ناسا کی ایک تفصیلی تحقیق کے مطابق، کچھ مخصوص پودے گھر کے اندر ہوا کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اریکا پام: یہ پودا دن کے وقت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آکسیجن میں تبدیل کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ہر شخص کے لیے کندھے کی اونچائی کے چار پودوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسنیک پلانٹ: یہ رات کے وقت بھی آکسیجن پیدا کرتا ہے، اسی لیے اسے سونے کے کمرے کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔
منی پلانٹ: یہ ہوا سے فارملڈیہائڈ اور دیگر نقصان دہ غیر مستحکم کیمیائی مرکبات کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
خشک جھاڑو کے بجائے گیلا پوچا لگائیں
صفائی کے دوران خشک جھاڑو لگانے سے دھول کے ذرات دوبارہ ہوا میں پھیلنے لگتے ہیں۔ اس لیے خشک جھاڑو کے بجائے گیلے کپڑے یا پوچے سے صفائی کرنی چاہیے۔ سردیوں کی خشک ہوا نظام تنفس کو حساس بنا دیتی ہے۔ ایسے میں گھر کے اندر نمی کی سطح 30 سے 50 فیصد کے درمیان برقرار رکھنی چاہیے۔ اس سے پھیپھڑوں کو راحت ملتی ہے اور دھول کے ذرات کو ہوا میں پھیلنے سے روکنے میں مدد ملتی ہے۔
وٹامن سی، آملہ اور گڑ کو غذا میں کریں شامل
گھر کو صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ آلودگی سے مقابلہ کرنے کے لیے جسم کی قوت مدافعت بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ آیوروید اور غذائیت کے ماہرین کے مطابق، غذا میں وٹامن سی، آملہ اور گڑ شامل کرنے سے نظام تنفس کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
گڑ میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ پھیپھڑوں میں جمع ہونے والے باریک ذرات اور زہریلے مادوں کے اثرات سے نمٹنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ تاہم، یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ گڑ یا کسی مخصوص غذا سے پھیپھڑوں میں جمع آلودگی خارج ہونے کا مضبوط سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے۔ آلودگی سے بچاؤ کے لیے صاف ہوا، مناسب وینٹی لیشن اور مؤثر ایئر فلٹریشن زیادہ اہم اقدامات ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


