غازی آباد: سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق رکن پارلیمنٹ اعظم خان کو غازی آباد کی خصوصی عدالت نے 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ اتوار کو منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت قائم عدالت نے انہیں ڈاسنا ضلع جیل میں رکھنے کا حکم دیا۔ وہ رامپور جیل سے رہائی کے محض ایک دن بعد دوبارہ جیل پہنچ گئے ہیں۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے اتوار کی صبح تقریباً 10:30 بجے اعظم خان کو خصوصی جج اویناش کمار پانڈے کی عدالت میں پیش کیا۔ انہیں پانچ گاڑیوں کے قافلے میں عدالت لایا گیا، جبکہ سکیورٹی کے لیے مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور اتر پردیش پولیس کے 100 سے زائد اہلکار تعینات تھے۔ عدالت پہنچنے کے دوران جب صحافیوں نے اعظم خان سے پوچھا کہ کیا وہ کچھ کہنا چاہیں گے، تو انہوں نے جواب دیا، ’’اب کہنے کے لیے کیا رہ گیا ہے؟‘‘ عدالت نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک سماعت کے بعد انہیں 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا۔ اب انہیں 13 نومبر 2026 کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
سرکاری فنڈز کے مبینہ غلط استعمال کا معاملہ
ای ڈی کے مطابق، اعظم خان کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ یکم اگست 2019 کو درج کیا گیا تھا۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ رامپور میں مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور محمد علی جوہر یونیورسٹی کے قیام کے لیے کسانوں کی زمین پر غیر قانونی قبضہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کی تعمیر کے دوران ٹھیکیداروں اور دیگر افراد سے مبینہ طور پر غیر قانونی وصولیاں بھی کی گئیں، جن سے جرائم کی آمدنی کے طور پر 426 کروڑ روپے حاصل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ای ڈی کے وکیل کلدیپ سریواستو کے مطابق، عدالت نے اپنے حکم میں الزامات کی سنگینی، مبینہ جرائم سے حاصل ہونے والی رقم کی مقدار اور مالی لین دین کی منصفانہ تحقیقات کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اعظم خان کو عدالتی تحویل میں بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
عدالت نے طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت دی
عدالت نے غازی آباد ضلع جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت دی ہے کہ اعظم خان کو جیل کے ضابطوں کے مطابق تمام ضروری طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور ان کے لیے تجویز کردہ دوائیں بھی دستیاب کرائی جائیں۔ واضح رہے کہ ای ڈی کی تحویل کے دوران اعظم خان نے سینے اور پیٹ میں درد کی شکایت کی تھی، جس کے بعد انہیں دہلی کے رام منوہر لوہیا اسپتال لے جایا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کی جانچ اور اجازت کے بعد انہیں دوبارہ ای ڈی ہیڈکوارٹر لایا گیا، جہاں ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔
رہائی کے چند گھنٹوں بعد دوبارہ گرفتاری
اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم تقریباً 11 ماہ جیل میں رہنے کے بعد 31 اکتوبر کی شام تقریباً 7:15 بجے رامپور جیل سے رہا ہوئے تھے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے 29 اکتوبر کو دو پین کارڈ سے متعلق مقدمات میں اعظم خان اور عبداللہ اعظم کی 10 سال کی سزا معطل کر دی تھی، جس کے بعد ان کی رہائی ممکن ہوئی۔ تاہم، جیل سے باہر آتے ہی ای ڈی نے اعظم خان کو منی لانڈرنگ کے معاملے میں گرفتار کرلیا۔ اعظم خان کی گرفتاری اور عدالتی تحویل کے معاملے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ اتر پردیش کے وزیر توانائی اے کے شرما نے کہا کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے، خواہ کسی کا عہدہ یا شناخت کچھ بھی ہو۔ ان کے مطابق، اقتدار کے غرور میں بعض لوگ قانون کو نظرانداز کرتے ہیں، لیکن آخرکار سب کو اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب سماج وادی پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری شیوپال سنگھ یادو نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ای ڈی نے حکومت کے اشارے پر اعظم خان کو جیل سے رہائی کے فوراً بعد گرفتار کیا۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ان کے بقول ظالمانہ حکومتوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




