تحریر: رجنی کانت سنگھ، ایگزیکٹو ایڈیٹر، بھارت ایکسپریس
امت شاہ کا لکھنؤ دورہ محض انتخابی جلسہ یا پارٹی کی ایک میٹنگ نہیں تھا، بلکہ اتر پردیش کی سیاست کے حوالے سے ایک اہم پیغام بھی تھا، جسے پارٹی کے اندر اور باہر دونوں جگہ غور سے دیکھا جا رہا ہے۔ بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ میں شاہ نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی تعریف کی، 2027 کے اسمبلی انتخابات کے لیے کارکنوں سے متحد ہوکر کام کرنے کی اپیل کی اور 2029 میں نریندر مودی کو چوتھی بار وزیر اعظم بنانے کا ہدف دہرایا۔ ان بیانات کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو سیاسی پیغام یہ سمجھا جا رہا ہے کہ اتر پردیش میں انتخابی مہم یوگی کی قیادت میں چلے گی، جبکہ قومی سطح پر مودی ہی پارٹی کا چہرہ رہیں گے۔ سیاست میں بڑے رہنماؤں کے ہر بیان کے کئی معنی ہوتے ہیں۔ جب امت شاہ یوگی کو ’ماہر منتظم‘ قرار دیتے ہیں، مافیا اور بدعنوانی کے خلاف کارروائی کا سہرا ان کے سر باندھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اتر پردیش میں بی جے پی ’انگد کے پاؤں‘ کی طرح مضبوطی سے جمی ہوئی ہے، تو اسے محض تعریف نہیں سمجھا جا رہا۔ اس سے یوگی کے حامیوں کو یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ 2027 کے انتخابات میں وزیر اعلیٰ کے چہرے کو تبدیل کرنے کا کوئی واضح منصوبہ سامنے نہیں ہے۔ دوسری جانب 2029 میں مودی کو چوتھی بار وزیر اعظم بنانے کے اعلان کو ان قیاس آرائیوں کے جواب کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے جن میں یوگی آدتیہ ناتھ کو بی جے پی کے مستقبل کے قومی چہرے کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ شاہ نے واضح طور پر کہا کہ مودی 2029 میں چوتھی بار وزیر اعظم بنیں گے۔ اس بیان کا سیاسی مفہوم یہ نکالا جا رہا ہے کہ یوگی کو اتر پردیش کی ذمہ داری دی جائے گی، لیکن مرکز میں قیادت مودی کے پاس ہی رہے گی۔ سادہ الفاظ میں اس سیاسی فارمولے کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ 2027 میں اتر پردیش میں یوگی کو آگے رکھا جائے اور 2029 میں مودی کو دوبارہ وزیر اعظم بنانے کے لیے کام کیا جائے۔ ضروری نہیں کہ یہ کوئی تحریری معاہدہ ہو، لیکن سیاسی اشاروں کی زبان میں اسے قیادت کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش قرار دیا جاسکتا ہے۔
سیاسی معاہدہ یا عملی مفاہمت؟
کیا اسے واقعی کوئی سیاسی معاہدہ کہا جاسکتا ہے؟ ’معاہدہ‘ ایک بڑا لفظ ہے۔ اس کے لیے دو طاقتور فریقوں کے درمیان مفادات کے واضح تبادلے کا ہونا ضروری ہے۔ فی الحال ایسا کوئی عوامی معاہدہ سامنے نہیں آیا ہے۔ امت شاہ نے یوگی کی تعریف کی، انتخابی تیاریوں کی ہدایت دی اور کارکنوں سے آپسی ناراضگی بھلاکر متحد ہونے کی اپیل کی۔ اس لیے اسے سیاسی معاہدے کے بجائے قیادت کے درمیان عملی مفاہمت یا سیاسی توازن کی کوشش کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اس مفاہمت کا پہلا پہلو یہ ہے کہ یوگی کو اتر پردیش کے انتخابی میدان میں بی جے پی کا اہم چہرہ سمجھا جا رہا ہے۔ ریاستی بی جے پی کے انچارج ونود تاوڑے بھی کہہ چکے ہیں کہ اتر پردیش کا انتخاب یوگی کو پارٹی کا چہرہ بناکر لڑا جائے گا۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ قومی قیادت، انتخابی حکمت عملی اور 2029 کے ایجنڈے پر مودی اور شاہ کا اثر برقرار رہے گا۔ اس کا مطلب یوگی کو مکمل طور پر آزادانہ اختیار دینا نہیں، بلکہ ریاست میں انہیں اہم ذمہ داری سونپ کر پارٹی کی انتخابی کامیابی کے لیے ان کی قیادت کو آگے رکھنا ہے۔
ٹکٹوں کی تقسیم ہوگی اصل امتحان
انتخابات میں قیادت کا چہرہ طے کرنا ایک بات ہے، لیکن ٹکٹوں کی تقسیم اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ معاملہ ہے۔ اتر پردیش جیسی بڑی ریاست میں ہر انتخابی حلقے کے پیچھے ذات پات کے مساوات، مقامی اثر و رسوخ، پرانی ناراضگیاں، نئے اور پرانے رہنماؤں کی دعویداری اور مختلف گروپوں کے دباؤ جیسے عوامل کام کرتے ہیں۔ اسی مرحلے پر قیادت کے درمیان اصل توازن کا امتحان ہوگا۔ امت شاہ نے کارکنوں سے کہا کہ ٹکٹ خوشامد یا پیسے کی بنیاد پر نہیں، بلکہ کام کی بنیاد پر دیے جائیں گے۔ یہ بات اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کا حقیقی اثر اسی وقت نظر آئے گا جب ٹکٹوں کی تقسیم میں اس اصول پر عمل کیا جائے گا۔ اگر یوگی کے قریبی رہنماؤں کو زیادہ ترجیح ملتی ہے تو پارٹی کے دوسرے حلقوں میں ناراضگی بڑھ سکتی ہے۔ دوسری طرف اگر مرکزی قیادت ٹکٹوں کی تقسیم میں اپنا اثر برقرار رکھتی ہے تو یوگی کے حامی اسے ان کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش سمجھ سکتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امت شاہ نے یوگی کو مکمل اختیار دے دیا ہے۔ البتہ یہ ضرور واضح ہے کہ شاہ عوامی سطح پر یوگی کو کمزور کرنے کے بجائے انہیں انتخابی طاقت کے طور پر پیش کررہے ہیں۔
پارٹی کے اندر فائدے اور نقصان کا حساب
بی جے پی میں یوگی کے حامی امت شاہ کے اس پیغام کو مثبت انداز میں دیکھیں گے۔ ان کے لیے یہ اشارہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کی پوزیشن مضبوط ہے اور پارٹی ان کی قیادت میں انتخاب لڑنے کی تیاری کررہی ہے۔ شاہ کی جانب سے یوگی کی تعریف ان کے لیے ایک طرح کی سیاسی توثیق کا کام کرسکتی ہے۔ تاہم پارٹی کے اندر ایسے رہنما بھی ہیں جو ٹکٹ، وزارت، تنظیمی عہدوں یا سیاسی فیصلوں میں زیادہ حصہ داری چاہتے ہیں۔ ان کی نظر میں یوگی کا انتخابی چہرہ ہونا ایک الگ بات ہے، جبکہ ٹکٹوں کی تقسیم میں سبھی گروپوں کی شمولیت ایک دوسرا معاملہ ہے۔ شاہ کا یہ کہنا کہ ٹکٹ کام کی بنیاد پر ملیں گے، پارٹی کے اندر موجود اس بے چینی کو کم کرنے کی کوشش بھی ہوسکتا ہے۔ سیاست میں تعریف اور مکمل اختیار ایک دوسرے کے مترادف نہیں ہوتے۔ کسی رہنما کی عوامی سطح پر تعریف کی جاسکتی ہے، لیکن تنظیمی فیصلوں میں اس کے اختیارات محدود بھی رہ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یوگی کے حامی شاہ کے بیان کو اہم سمجھیں گے، لیکن ٹکٹوں کی تقسیم تک صورت حال پر نظر رکھیں گے۔
شکست کے بعد سمجھوتہ نہیں، جیت کے لیے حکمت عملی
بعض سیاسی مبصرین اس صورت حال کو اس طرح دیکھ رہے ہیں کہ بی جے پی کے اندرونی چیلنجز اور ملک کی بدلتی ہوئی سیاست کے پیش نظر مودی اور شاہ کی قیادت کو یوگی کے معاملے میں کچھ گنجائش دینی پڑ رہی ہے۔ اس تشریح میں جزوی طور پر وزن ہوسکتا ہے، کیونکہ شاہ نے یوگی کو انتخابی مہم کا مرکزی چہرہ بنانے کے اشارے دیے ہیں۔ لیکن اسے قیادت کے جھکنے کے طور پر پیش کرنا مبالغہ ہوگا۔ مودی اور شاہ کی حکمت عملی میں انتخابی کامیابی کو ہمیشہ مرکزی اہمیت حاصل رہی ہے۔ اگر اتر پردیش میں یوگی کی مقبولیت بی جے پی کے لیے انتخابی طور پر اہم ہے تو انہیں آگے رکھنا کمزوری کے بجائے عملی سیاست کا حصہ ہوسکتا ہے۔ شاہ نے اتر پردیش میں مسلسل تیسری بار بی جے پی کی حکومت بنانے کا ہدف رکھا ہے اور اس کے لیے بوتھ سطح تک تیاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس تناظر میں اسے شکست کے بعد سمجھوتہ کرنے کے بجائے انتخابی کامیابی کے لیے سیاسی حساب کتاب قرار دیا جاسکتا ہے۔ بی جے پی کی قیادت جانتی ہے کہ اتر پردیش میں مضبوط سیاسی پوزیشن 2029 کے قومی انتخابی ہدف کے لیے بھی اہم ہوگی۔ اسی لیے ریاست میں یوگی کو نمایاں ذمہ داری دینا پارٹی کی سیاسی ضرورت بھی ہوسکتی ہے۔
ترقی، ہندوتوا اور قوم پرستی کا ایجنڈا
اتر پردیش بی جے پی کے لیے محض ایک ریاست نہیں، بلکہ قومی سیاست میں اس کی طاقت کا اہم مرکز ہے۔ یہاں کی انتخابی کامیابی یا ناکامی لوک سبھا میں پارٹی کی پوزیشن پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امت شاہ نے 2027 کے انتخابات کو مسلسل تیسری بار حکومت بنانے کے مشن سے جوڑا اور یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے کا بڑا وعدہ بھی کیا۔ یو سی سی کا وعدہ بی جے پی کے لیے ایک نظریاتی اور انتخابی دونوں طرح کا معاملہ ہے۔ اس کے ذریعے پارٹی اپنے بنیادی حامیوں کو متحرک رکھنے کی کوشش کرسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ایودھیا اور 1990 کے واقعات کا ذکر بھی پارٹی کے روایتی جذباتی ایجنڈے کو دوبارہ نمایاں کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی یوگی کے ترقیاتی اور قانون و انتظام کے ماڈل کے ساتھ ہندوتوا اور قوم پرستی کے موضوعات کو بھی انتخابی مہم کا حصہ بنانا چاہتی ہے۔
مستقبل کے تین بڑے امتحان
آنے والے مہینوں میں تین اہم امور یہ طے کریں گے کہ بی جے پی کی قیادت کے درمیان یہ سیاسی توازن کتنا مضبوط رہتا ہے۔ پہلا، ٹکٹوں کی تقسیم میں یوگی کے حامیوں کو کتنی جگہ ملتی ہے۔ دوسرا، پارٹی کے اندر ناراض رہنماؤں کو کس حد تک مطمئن کیا جاتا ہے۔ اور تیسرا، انتخابی مہم کے دوران عوام یوگی کی قیادت پر کتنا اعتماد ظاہر کرتے ہیں۔ ابھی تک کے اشارے بتاتے ہیں کہ بی جے پی اتر پردیش اور قومی سطح پر دو الگ مگر باہم مربوط سیاسی چہروں کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہے: ریاست میں یوگی اور ملک میں مودی۔ یہ حکمت عملی انتخابی اعتبار سے کارآمد ہوسکتی ہے، بشرطیکہ پارٹی کے اندرونی اختلافات اسے کمزور نہ کریں۔ امت شاہ کی جانب سے کارکنوں کو ناراضگیاں بھلاکر متحد ہونے کی اپیل بھی اسی خدشے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ امت شاہ نے یوگی کو سیاسی اہمیت اور احترام ضرور دیا ہے، لیکن انہیں مکمل اختیارات سونپنے کا کوئی واضح اعلان نہیں کیا۔ یوگی کو اتر پردیش کی ذمہ داری اور مودی کو قومی قیادت کے مرکز میں برقرار رکھنے کا جو خاکہ سامنے آرہا ہے، اس کی اصل آزمائش ٹکٹوں کی تقسیم، تنظیمی فیصلوں اور انتخابی مہم کے دوران ہوگی۔ بی جے پی کے لیے 2027 کا اتر پردیش اسمبلی انتخاب محض ریاستی مقابلہ نہیں، بلکہ 2029 کے لوک سبھا انتخاب کی تیاری کا بھی ایک اہم مرحلہ ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


