Bharat Express DD Free Dish

PM Modi’s Jibe regarding the MLC results: ’’چار بڑی ریاستوں میں بیلٹ پیپر سے انتخابات ہوئے، کانگریس کتنی سیٹیں جیتی؟‘‘ قانون ساز کونسل کے نتائج پر وزیراعظم مودی نے کانگریس پر کیا طنز

سال 2026 کے قانون ساز کونسل انتخابات کے نتائج بہار، اتر پردیش، کرناٹک اور مہاراشٹر کی مجموعی طور پر 28 نشستوں کے لیے اعلان کیے جا چکے ہیں۔ خبر کے مطابق، کانگریس تین ریاستوں میں ایک بھی نشست حاصل نہیں کر سکی، جبکہ مہاراشٹر میں بھی اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز حال ہی میں مکمل ہونے والے قانون ساز کونسل کے انتخابات میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی کامیابی اور کانگریس کی مایوس کن کارکردگی پر طنز کیا۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش، مہاراشٹر، بہار اور کرناٹک جیسی چار بڑی ریاستوں میں قانون ساز کونسل کی 28 نشستوں پر انتخابات ہوئے اور ان میں بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹنگ کی گئی۔ وزیر اعظم نے سوال کیا کہ اندازہ لگائیے، کانگریس نے کتنی نشستیں جیتی ہیں؟ وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں یہ تبصرہ کیا۔ ان کا یہ طنز اپوزیشن کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) میں مبینہ دھاندلی کے الزامات اور بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے کے مطالبے کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

چار ریاستوں کی 28 نشستوں کے نتائج کا اعلان

سال 2026 کے قانون ساز کونسل انتخابات کے نتائج بہار، اتر پردیش، کرناٹک اور مہاراشٹر کی مجموعی طور پر 28 نشستوں کے لیے اعلان کیے جا چکے ہیں۔ خبر کے مطابق، کانگریس تین ریاستوں میں ایک بھی نشست حاصل نہیں کر سکی، جبکہ مہاراشٹر میں بھی اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ مہاراشٹر میں حکمراں مہایوتی اتحاد اور اپوزیشن کے مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے درمیان سخت مقابلہ رہا، لیکن اس کے باوجود کانگریس کی پوزیشن کمزور نظر آئی۔ کرناٹک میں بھی کانگریس چاروں نشستوں پر ہار گئی۔

پرہلاد جوشی نے بھی کانگریس کو نشانہ بنایا

اس سے پہلے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ چار ریاستوں میں قانون ساز کونسل کی 28 نشستوں پر مقابلہ کرنے کے باوجود کانگریس ایک بھی نشست جیتنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس مسلسل ووٹ چوری کے الزامات لگاتی ہے اور جمہوری اداروں پر سوال اٹھاتی ہے، لیکن جب انتخابی نتائج اس کے حق میں نہیں آتے تو وہ پورے نظام کو موردِ الزام ٹھہرانے لگتی ہے۔ پرہلاد جوشی نے کہا کہ کانگریس مسلسل ای وی ایم پر سوال اٹھاتی رہی ہے اور مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات لگاتی ہے، لیکن جب بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹنگ ہوئی تو وہاں بھی اسے کامیابی نہیں ملی اور شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق، انتخابی نتائج نے کانگریس کے الزامات کی صداقت پر ہی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔

گریجویٹ اور اساتذہ کے حلقوں میں ہوئے انتخابات

قابل ذکر ہے کہ چاروں ریاستوں میں قانون ساز کونسل کی 28 نشستوں کے لیے گریجویٹ اور اساتذہ کے انتخابی حلقوں میں انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ اتر پردیش میں 11 نشستوں پر ووٹنگ ہوئی، جن میں پانچ گریجویٹ اور چھ اساتذہ کے حلقے شامل تھے۔ بہار میں قانون ساز کونسل کی آٹھ نشستوں کے لیے انتخابات ہوئے، جن میں چار گریجویٹ اور چار اساتذہ کے حلقے تھے۔ مہاراشٹر میں پانچ نشستوں پر مقابلہ ہوا، جن میں تین گریجویٹ اور دو اساتذہ کے حلقے شامل تھے۔ کرناٹک میں کانگریس کو چاروں نشستوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read