Bharat Express DD Free Dish

Election results

بی جے پی کے دونوں امیدواروں کو محض ایک ایک ووٹ ملنا مقامی سیاست میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ راجستھان میں بی جے پی کی حکومت ہے، اس کے باوجود ان دونوں امیدواروں کو اپنے اپنے وارڈ میں انتہائی کم حمایت حاصل ہوئی۔

بانکی پور نشست طویل عرصے تک بی جے پی اور خاص طور پر نتن نبین کے خاندان کا مضبوط سیاسی گڑھ سمجھی جاتی رہی ہے، اس لیے اس شکست کو پارٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

دتیا میں چوتھے راؤنڈ کے بعد کانگریس امیدوار 833 ووٹوں سے آگے، بانکی پور میں چھٹے مرحلے تک پرشانت کشور 3,451 ووٹوں کی برتری کے ساتھ سرفہرست۔ الیکشن کمیشن نے 6 جولائی کو بہار، گجرات اور مدھیہ پردیش کی تین اسمبلی نشستوں پر ضمنی انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ ان نشستوں پر 30 جولائی کو ووٹنگ ہوئی تھی۔

بانکی پور اسمبلی نشست بی جے پی کے سینئر رہنما نتن نبین کے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی، جس کے باعث یہاں ضمنی انتخاب کرایا گیا۔ یہ نشست پٹنہ صاحب لوک سبھا حلقے کا حصہ ہے اور گزشتہ کئی برسوں سے بی جے پی کا مضبوط سیاسی مرکز سمجھی جاتی رہی ہے۔

وڈودرا میں سرداردھام ہاسٹل کے افتتاح کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گجرات کے بلدیاتی اور پنچایت انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کارکردگی کو بھی شاندار قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گجرات کے عوام نے ہمیشہ سیاسی استحکام کو ترجیح دی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ریاست مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

تمل ناڈو کانگریس کے انچارج گریش چوڈنکر کی جانب سے جاری خط میں کہا گیا کہ تمل ناڈو کانگریس کمیٹی اور کانگریس لیجسلیٹو پارٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ وہ ٹی وی کے کو حکومت بنانے کے لیے مکمل حمایت فراہم کریں گے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ آسام اور مغربی بنگال ایسے واضح مثالیں ہیں جہاں بی جے پی نے الیکشن کمیشن کی مدد سے انتخابات جیتے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے طریقے پہلے بھی مدھیہ پردیش، ہریانہ، مہاراشٹر اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں دیکھے جا چکے ہیں۔

پرینکا گاندھی واڈرا نے بڑی کامیابی پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پارٹی دیانت داری اور عاجزی کے ساتھ اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔

اعداد و شمار کے مطابق آل انڈیا این آر کانگریس 9 سیٹوں پر آگے ہے، جبکہ اس کی اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی 2 سیٹوں پر برتری بنائے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ اے آئی اے ڈی ایم کے ایک سیٹ پر آگے ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن اتحاد کو محدود کامیابی ملتی نظر آرہی ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس، ڈی ایم کے اور اے ڈی ایم کے ایک-ایک سیٹ پر سبقت حاصل کیے ہوئے ہے۔

کیرالہ سمیت مغربی بنگال، تمل ناڈو، آسام اور پڈوچیری کے 823 حلقوں میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ گنتی کا عمل پوسٹل بیلٹ سے شروع ہو کر ای وی ایم ووٹوں تک جاری ہے اور نتائج مرحلہ وار جاری کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کے درمیان نتائج کا سلسلہ جاری ہے اور دن بھر میں سیاسی منظرنامہ مزید واضح ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔