Bharat Express DD Free Dish

Delhi-NCR, the Air Quality Index: دہلی-این سی آر میں آلودگی بڑھتے ہی کیوں نافذ ہوتا ہے گریپ؟ جانئے کس مرحلے میں کون سی پابندیاں لگتی ہیں

دہلی-این سی آر میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے پیش نظر جمعہ کے روز دہلی کے وزیر ماحولیات منجندر سنگھ سرسا نے بھی لوگوں سے اپیل کی تھی کہ جب تک گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان (گریپ-1) نافذ ہے، وہ آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کو سڑکوں پر نہ نکالیں اور حکومت کی کوششوں میں تعاون کریں۔سرسا نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صورت حال اچھی نہیں ہے۔

نئی دہلی : دہلی-این سی آر کے کئی علاقوں میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔ ہفتہ کے روز نوئیڈا میں براہ راست فضائی معیار کا اشاریہ (اے کیو آئی) 303 ریکارڈ کیا گیا، جو ’بہت خراب‘ زمرے میں آتا ہے۔ ہوا میں پی ایم 2.5 کی سطح 222 مائیکروگرام فی مکعب میٹر، جب کہ پی ایم 10 کی سطح 269 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی ہے۔فضائی آلودگی کے مسلسل بگڑتے حالات کے درمیان انتظامیہ لوگوں سے اپیل کر رہی ہے کہ جب تک گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان (گریپ-1) نافذ ہے، آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کا استعمال نہ کریں اور حکومت کی کوششوں میں تعاون کریں۔ لیکن ہر سال سردیوں میں زیر بحث آنے والا یہ گریپ پلان آخر کیا ہے؟ اسے کون نافذ کرتا ہے اور اس کے تحت کن پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

کیا ہے گریپ اور اسے کون نافذ کرتا ہے؟

گریپ یعنی ’گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان‘ دہلی اور قومی راجدھانی خطے (این سی آر) میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ایک ہنگامی منصوبہ ہے۔ آسان الفاظ میں، یہ آلودگی کی سطح کے مطابق نافذ کیے جانے والے سخت ضابطوں کا مجموعہ ہے۔ ہوا جتنی زیادہ آلودہ ہوگی، پابندیاں بھی اتنی ہی سخت ہوتی جائیں گی۔ اسے پہلی بار 2017 میں وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی نے نوٹیفائی کیا تھا۔فی الحال گریپ نافذ کرنے کی ذمہ داری کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم) کی ہے۔ یہ کمیشن محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹرولوجی (آئی آئی ٹی ایم) کی پیش گوئیوں اور فضائی معیار کے اعداد و شمار پر مسلسل نظر رکھتا ہے۔جب اے کیو آئی ایک مقررہ حد سے تجاوز کر جاتا ہے یا محکمہ موسمیات پیش گوئی کرتا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ہوا انتہائی آلودہ ہو سکتی ہے، تو سی اے کیو ایم گریپ کے متعلقہ مرحلے کو نافذ کرنے کا حکم جاری کرتا ہے۔

گریپ کا پہلا مرحلہ: خراب ہوا، اے کیو آئی 201 سے 300

گریپ کا پہلا مرحلہ خراب فضائی معیار کی صورت میں نافذ ہوتا ہے۔ اس دوران تعمیراتی اور انہدام کے مقامات پر گردوغبار پر قابو پانے کے لیے سخت ضابطے نافذ کیے جاتے ہیں۔ کھلے مقامات پر کچرا جلانے پر مکمل پابندی ہوتی ہے اور سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ شروع کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ 10 سے 15 سال پرانی گاڑیوں کے حوالے سے پابندیوں پر سختی سے عمل کرایا جاتا ہے۔ حکومت لوگوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ نجی گاڑیوں کے بجائے عوامی ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں تاکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد اور آلودگی کو کم کیا جا سکے۔

دوسرا مرحلہ: بہت خراب ہوا، اے کیو آئی 301 سے 400

جب اے کیو آئی 301 سے 400 کے درمیان پہنچ جاتا ہے تو گریپ کا دوسرا مرحلہ نافذ کیا جاتا ہے۔ اس مرحلے میں ڈیزل جنریٹروں کے استعمال پر پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں، تاہم ضروری خدمات کو چھوٹ دی جاتی ہے۔نجی گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے پارکنگ فیس میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی سی این جی اور الیکٹرک بسوں کے علاوہ میٹرو ٹرینوں کے چکر بڑھانے کے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ تندوروں اور کوئلے سے کھانا پکانے والے ہوٹلوں اور ڈھابوں پر بھی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔

تیسرا مرحلہ: سنگین آلودگی، اے کیو آئی 401 سے 450

گریپ کا تیسرا مرحلہ اس وقت نافذ ہوتا ہے جب اے کیو آئی 401 سے 450 کے درمیان پہنچ جاتا ہے۔ یہ فضائی آلودگی کی سنگین صورت حال ہوتی ہے۔اس مرحلے میں قومی سلامتی اور ضروری منصوبوں کو چھوڑ کر دیگر تعمیراتی اور انہدام کے کاموں پر مکمل پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ دہلی-این سی آر میں بی ایس-3 پٹرول اور بی ایس-4 ڈیزل سے چلنے والی چار پہیہ گاڑیوں کی آمدورفت پر بھی پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔اس کے علاوہ آلودگی کی شدت کو دیکھتے ہوئے پرائمری اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

چوتھا مرحلہ: انتہائی سنگین آلودگی، اے کیو آئی 450 سے زیادہ

گریپ کا چوتھا مرحلہ آلودگی کی انتہائی سنگین یا ہنگامی صورت حال میں نافذ کیا جاتا ہے، جب اے کیو آئی 450 سے تجاوز کر جائے۔ یہ گریپ کا سب سے سخت مرحلہ ہے۔اس دوران ضروری اشیا لے جانے والے ٹرکوں کو چھوڑ کر دیگر ٹرکوں کی دہلی میں داخلے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ اسکول اور کالج بند کیے جا سکتے ہیں اور آن لائن کلاسوں کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔ سرکاری اور نجی دفاتر میں 50 فیصد ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت بھی دی جا سکتی ہے۔ ضرورت پڑنے پر حکومت طاق اور جفت نمبر کی گاڑیوں سے متعلق منصوبہ بھی نافذ کر سکتی ہے۔

وزیر ماحولیات کی لوگوں سے اپیل

دہلی-این سی آر میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے پیش نظر جمعہ کے روز دہلی کے وزیر ماحولیات منجندر سنگھ سرسا نے بھی لوگوں سے اپیل کی تھی کہ جب تک گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان (گریپ-1) نافذ ہے، وہ آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کو سڑکوں پر نہ نکالیں اور حکومت کی کوششوں میں تعاون کریں۔سرسا نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صورت حال اچھی نہیں ہے۔

اے کیو آئی بڑھنے سے صحت کو کتنا خطرہ؟

دہلی-این سی آر جیسے گنجان آبادی والے علاقے میں جب اے کیو آئی 201 کے قریب پہنچتا ہے تو ہوا کا معیار خراب ہونے لگتا ہے۔ اے کیو آئی 201 سے 300 کے درمیان ہونے کا مطلب ہے کہ فضائی آلودگی خراب سطح پر ہے اور صحت مند افراد کو بھی پریشانی ہو سکتی ہے۔ خصوصاً دل اور پھیپھڑوں کے مریضوں کے لیے یہ صورت حال زیادہ نقصان دہ ہو سکتی ہے۔جب اے کیو آئی 301 یا اس سے زیادہ ہو جاتا ہے تو صحت کے لیے خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ اس صورت حال میں پی ایم 2.5 کے باریک ذرات سب سے زیادہ تشویش کا باعث ہوتے ہیں۔ یہ ذرات 2.5 مائیکرو میٹر سے بھی چھوٹے ہوتے ہیں اور سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں۔ ان میں سے بعض ذرات خون کے دوران میں بھی داخل ہو سکتے ہیں، جس سے صحت کے سنگین مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read