امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر یوکرین کو اسٹارلنک مواصلاتی سروس تک رسائی میں کوئی مسئلہ درپیش ہے تو وہ اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک سے بات کریں گے۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب یوکرینی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اسٹارلنک سروس کی رفتار پر عائد پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔یوکرینی حکام کا یہ دعویٰ ٹرمپ کے اس بیان سے مختلف ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یوکرین کے لیے اسٹارلنک سروس مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے۔ اس معاملے پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ سروس پر پابندیوں سے روس کے خلاف فوجی کارروائیوں میں یوکرین کے سیٹلائٹ مواصلاتی نظام کے استعمال پر اثر پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ بولے، مسئلہ ہے تو حل کرا دوں گا
جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک اس معاملے پر ایلون مسک سے بات نہیں کی ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر وہ ان سے رابطہ کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’اگر کوئی مسئلہ ہے تو میں اسے حل کرا دوں گا۔‘‘ٹرمپ نے جمعرات کو دعویٰ کیا تھا کہ یوکرین کے لیے اسٹارلنک سروس تک رسائی بحال کر دی گئی ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق، جمعہ کو یوکرینی حکام نے کہا کہ سروس کی رفتار پر پابندیاں اب بھی نافذ ہیں۔ اس طرح سروس کی حقیقی صورت حال کے حوالے سے دونوں جانب سے مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔
ایلون مسک کے دفاع میں اترے امریکی صدر
اسٹارلنک تنازع کے درمیان ٹرمپ نے ایلون مسک کا دفاع بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مسک غیر جانب داری کے ساتھ کام کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’ایلون کبھی کچھ غلط نہیں کریں گے۔ میں انہیں بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔ وہ ایک غیر جانب دار شخص ہیں۔‘‘اس تنازع نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ یوکرین کی فوج کے لیے اہم مواصلاتی نظام پر کسی نجی کمپنی کا کتنا کنٹرول ہونا چاہیے۔ اسٹارلنک اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سروس ہے، جبکہ اسٹارشیلڈ اسی کمپنی کا فوجی ضروریات کے لیے تیار کردہ مواصلاتی نظام ہے۔
روسی محاذ کے پیچھے ڈرون آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ
یوکرینی حکام کے مطابق، فوجی استعمال کے لیے تیار کردہ اسٹارشیلڈ نظام پر پابندیوں کے باعث روسی فوج کی اگلی صفوں کے پیچھے کام کرنے والے بعض ڈرونز کے آپریشن میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ روسی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے فضائی دفاعی نظام پر بھی اثر پڑنے کی بات کہی گئی ہے۔فوجی کارروائیوں میں سیٹلائٹ مواصلات کی اہمیت کے پیش نظر اس تنازع نے یوکرین، امریکہ اور ایلون مسک کے درمیان کشیدگی بڑھا دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی اہم ہو گیا ہے کہ یوکرین کی فوجی ضروریات کے لیے ضروری ٹیکنالوجی تک رسائی کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری کس کی ہونی چاہیے۔
ٹرمپ اور مسک کے تعلقات میں پہلے بھی آ چکی ہے کشیدگی
ٹرمپ اور مسک کے تعلقات میں اس سے پہلے بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ سال مسک نے سرکاری اخراجات میں کمی کے مقصد سے قائم کیے گئے محکمہ برائے حکومتی کارکردگی (ڈی او جی ای) کی قیادت کی تھی۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان عوامی سطح پر اختلافات سامنے آئے تھے۔حالیہ مہینوں میں دونوں کے تعلقات میں بہتری کے آثار دکھائی دیے ہیں۔ ستمبر میں مسک نے وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک سرکاری ضیافت میں بھی شرکت کی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


