Bharat Express DD Free Dish

Akhilesh Yadav accuses BJP: ایم ایل سی انتخابات میں دھاندلی کا الزام، اکھلیش یادو کا دعویٰ، ’ووٹ چوری‘ کے باوجود بی جے پی کو ملے گی شکست

اکھلیش یادو نے بی جے پی پر عوام کے عقیدے اور مذہبی جذبات سے کھلواڑ کرنے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اب احساس ہو گیا ہے کہ ان کے عقائد اور گہرے جذبات کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’عوام سمجھ چکے ہیں کہ ان کے عقیدے اور گہرے جذبات کے ساتھ کس طرح کھلواڑ کیا گیا ہے۔

لکھنؤ: سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے سربراہ اکھلیش یادو نے جمعہ کو قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کے گریجویٹ اور ٹیچر حلقوں کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر انتخابی دھاندلی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتظامیہ اور بدعنوان افسران کی ملی بھگت سے ووٹروں کو اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ مبینہ بے ضابطگیوں کے باوجود حکمراں جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اتر پردیش میں اساتذہ اور گریجویٹ ووٹر ریاستی حکومت سے ناراض ہیں اور بڑی تعداد میں بی جے پی کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ ان کے مطابق، آگرہ، فتح پور، اٹاوہ، اوریا، مظفر نگر، غازی آباد اور نوئیڈا سمیت کئی اضلاع میں شکست کے خدشے کے باعث مبینہ طور پر انتخابی بے ضابطگیوں کا سہارا لیا گیا۔

’عوام نے ووٹ چوری کو پہچان لیا ہے‘

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا، ’’آگرہ، فتح پور، اٹاوہ، اوریا، مظفر نگر اور غازی آباد و نوئیڈا سمیت کئی دیگر اضلاع میں اپنی شکست دیکھ کر انہوں نے دھاندلی کا راستہ اختیار کیا۔ انہیں معلوم ہے کہ عوام نے ان کی ’ووٹ چوری‘ کو پہچان لیا ہے، اس لیے انتظامیہ اور بدعنوان افسران نے ملی بھگت کرکے لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی کوشش کی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام کوششوں کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست ہوگی۔ قانون ساز کونسل کے اہم حلقوں، جن میں الہ آباد-جھانسی ڈویژن کا گریجویٹ حلقہ اور گورکھپور-فیض آباد ڈویژن کا ٹیچر حلقہ شامل ہیں، میں جمعہ کو سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان پولنگ مکمل ہوئی۔ ووٹوں کی گنتی 27 اکتوبر کو مقرر ہے۔

لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوششوں کے باوجود برقرار رہے گی ہندوستانیت

مرکزی وزیر داخلہ اور بی جے پی کے سینئر رہنما امت شاہ کے اس بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر کہ اپوزیشن دراندازوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کی کوشش کر رہی ہے، اکھلیش یادو نے کہا کہ ہندوستان کی بھائی چارے کی روایت، ثقافت اور ہندستانیت لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوششوں کے باوجود برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا، ’’اس ملک میں، ہندوستان کے بھائی چارے، ثقافت اور ہماری ہندستانیت میں بہت کچھ سمویا ہوا ہے۔ ممکن ہے کہ بہت سے لوگوں کو ’درانداز‘ کہا جا رہا ہو، لیکن ہماری ہندستانیت برقرار رہے گی۔ اس کی بنیاد ایک دوسرے کا احترام کرنے، مل جل کر آگے بڑھنے اور سب کے ساتھ عزت و وقار سے پیش آنے پر ہے۔ کوئی بھی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا، یہاں تک کہ وہ لوگ بھی نہیں جو دوسروں کو درانداز قرار دیتے پھرتے ہیں۔‘‘ اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ حقیقت میں وہ لوگ خود درانداز ہیں جو دوسروں کو اس نام سے پکارتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی درانداز موجود ہیں تو ان کی فہرست ہونی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بنگال اور بہار کے لیے ایسی فہرست موجود نہیں، لیکن گجرات کے معاملے میں ان کے پاس فہرست ہے۔

ٹھیکہ داری اور نیوز چینلوں میں سرمایہ کاری کا بھی الزام

سماجوادی پارٹی سربراہ نے مزید الزام لگایا کہ ٹھیکہ داری کے کاروبار اور نیوز چینلوں میں بھی درانداز داخل ہو گئے ہیں اور انہوں نے میڈیا میں سرمایہ کاری کے ذریعے رسائی حاصل کی ہے۔ انہوں نے اتراکھنڈ سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اتر پردیش میں سب سے بڑے درانداز وہی ہیں۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ ’درانداز‘ کی اصطلاح کی واضح تعریف ضروری ہے۔ ان کے مطابق، اس لفظ کے استعمال، زبان یا رویے سے ہندوستان کی مشترکہ شناخت اور ہندستانیت کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض عناصر مسلسل ہندستانیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بی جے پی پر لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھلواڑ کا الزام

اکھلیش یادو نے بی جے پی پر عوام کے عقیدے اور مذہبی جذبات سے کھلواڑ کرنے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اب احساس ہو گیا ہے کہ ان کے عقائد اور گہرے جذبات کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’عوام سمجھ چکے ہیں کہ ان کے عقیدے اور گہرے جذبات کے ساتھ کس طرح کھلواڑ کیا گیا ہے۔ یہاں ہر شخص اس سے واقف ہے۔ لوگوں کے عقیدے کا مذاق نہیں اڑایا گیا؟ سب جانتے ہیں، اور پریس بھی اس سے واقف ہے۔‘‘

کانگریس کے ساتھ سیٹوں کی تقسیم پر کیا کہا؟

اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2027 سے قبل کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے درمیان سیٹوں کی تقسیم کے معاملے پر اکھلیش یادو نے کانگریس کو مبینہ طور پر پیش کی جانے والی نشستوں کی تعداد کے بارے میں قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ 172، 160 یا 150 نشستوں کے اعداد و شمار بتانے والے افراد ہی ان اعداد کو افشا کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت کسی کو معلوم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس، سماجوادی پارٹی اور انڈیا اتحاد کا مشترکہ مقصد بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانا ہے۔ ان کے مطابق، اگر کسی کو قائل کرنے کی ضرورت پڑی تو ایسا کیا جائے گا اور اتحاد بی جے پی کو شکست دینے کے لیے مؤثر انداز میں آگے بڑھے گا۔ این ڈی اے کے اس دعوے پر کہ 2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن کی جیت محض خواب ہی رہے گی، اکھلیش یادو نے کہا کہ سماجوادی پارٹی خوابوں کے بجائے زمینی حقائق اور جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read