فرانس میں حالیہ دنوں طلبہ کے احتجاج کے دوران کئی پوسٹروں پر ’بسم اللہ‘ لکھا نظر آیا، جس کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا۔ بعض حلقوں میں اس احتجاج کو مسلم برادری اور تارکین وطن سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فرانس میں مسلم تارکین وطن کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ پہلے بھی فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو تارکین وطن کے خلاف سختی برتنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔ تاہم، ٹرمپ نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ دوسری جانب میکرون نے ان کے بیان کو بے بنیاد اور احمقانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
وائرل اسکرین شاٹ سے شروع ہوا تنازع
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اکتوبر کے آغاز میں اسنیپ چیٹ پر ہونے والی ایک گفتگو کا اسکرین شاٹ تیزی سے وائرل ہوا تھا۔ اس میں مامادو نامی ایک صارف نے طلبہ کے ایک گروپ میں شامل ہونے کی کوشش کی تھی۔ اس نے پیغام میں لکھا تھا، ’’بسم اللہ، یہاں کا ماحول تاریک ہے‘‘ اور ساتھ ہی پوچھا تھا کہ اسکول بند کرانے کے لیے احتجاج کب منعقد کیا جائے گا۔ پیغام میں الجزائر کے پرچم والے ایموجی بھی استعمال کیے گئے تھے۔ اس اسکرین شاٹ کے وائرل ہونے کے بعد طلبہ کے احتجاج اور اس پیغام کے درمیان تعلق کے سلسلے میں مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔
طلبہ نے خفیہ پولیس اہلکار ہونے کا شبہ ظاہر کیا
احتجاج میں شامل طلبہ کا الزام تھا کہ مامادو نامی صارف کوئی عام شخص نہیں، بلکہ ایک خفیہ پولیس اہلکار تھا، جو اپنی شناخت چھپا کر طلبہ کے گروپ میں شامل ہونے اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسی شبہے کے بعد طلبہ نے اس پیغام اور اس میں استعمال کیے گئے عربی الفاظ کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ بعد میں احتجاج کے دوران کئی پوسٹروں پر ’بسم اللہ‘ لکھ کر مبینہ طور پر طلبہ کے گروپ میں خفیہ طور پر داخل ہونے کی کوشش پر طنز کیا گیا۔تاہم، خفیہ پولیس اہلکار سے متعلق طلبہ کے اس الزام کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
’بسم اللہ‘ کا کیا مطلب ہے؟
’بسم اللہ‘ عربی زبان کا معروف لفظ ہے، جس کا مطلب ہے ’اللہ کے نام سے شروع‘۔ مسلمان عام طور پر کسی کام کا آغاز کرتے وقت یہ لفظ استعمال کرتے ہیں۔ اس معاملے میں طلبہ نے مبینہ طور پر اس لفظ کو مذہبی اظہار کے بجائے طنز اور احتجاج کے ایک طریقے کے طور پر استعمال کیا۔ ان کا مقصد مبینہ خفیہ نگرانی اور طلبہ کے گروپ میں داخل ہونے کی کوشش کا مذاق اڑانا تھا۔اس پورے معاملے پر فرانسیسی حکام کی جانب سے اب تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
تعلیم اور مہنگائی تھے احتجاج کے اصل مسائل
طلبہ کا یہ احتجاج بنیادی طور پر مذہبی مسائل سے متعلق نہیں تھا۔ مظاہرین اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، کلاس رومز میں طلبہ کی زیادہ تعداد، بڑھتی ہوئی مہنگائی، سماجی عدم مساوات اور نوجوانوں کے لیے محدود مواقع جیسے مسائل اٹھا رہے تھے۔پیرس یونیورسٹی کے محقق یوسف الشاذلی کے مطابق، اس تنازع نے عرب اور افریقی نژاد نوجوانوں کے حوالے سے پولیس اور سرکاری اداروں کے رویے پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


