Bharat Express DD Free Dish

Rehan Vadra Bikaner House Exhibition Controversy: ترنگے کے لیے ڈٹ گئے ریحان واڈرا، بیکارنیر ہاؤس میں تصویری نمائش پر تنازع، رابرٹ اور پرینکا واڈرا نے کیا کہا؟

دہلی میں ریحان واڈرا کی نمائش ’نو آئیڈیا از فائنل‘ کی 70 سے زائد تصاویر ہٹانے کا حکم، افتتاح سے محض دو گھنٹے پہلے نوٹس ملنے پر تنازع، رابرٹ واڈرا نے کہا، بیٹے پر فخر ہے کہ وہ ترنگے اور اپنی تخلیقی آزادی کے لیے ڈٹا رہا

دارالحکومت دہلی کے بیکارنیر ہاؤس میں کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا اور صنعت کار رابرٹ واڈرا کے بیٹے، فوٹوگرافر اور بصری فنکار ریحان واڈرا کی انفرادی تصویری نمائش ’نو آئیڈیا از فائنل‘ کو لے کر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ نمائش کے افتتاح سے چند گھنٹے قبل انتظامیہ نے مبینہ طور پر 70 سے زائد تصاویر ہٹانے کا نوٹس جاری کردیا۔ انتظامیہ نے ان تصاویر کو سیاسی مواد قرار دیتے ہوئے احاطے کی پالیسی کی خلاف ورزی بتایا۔ اس واقعے کے بعد فنکارانہ آزادی اور اظہارِ رائے کے حق پر بحث شروع ہوگئی ہے۔

ریحان واڈرا، ان کے والد رابرٹ واڈرا اور والدہ پرینکا گاندھی واڈرا نے اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ رابرٹ واڈرا نے بیٹے کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ ریحان ترنگے اور اپنی تخلیقی آزادی کے لیے ڈٹ کر کھڑا رہا۔

افتتاح سے چند گھنٹے پہلے ملا نوٹس

ریحان واڈرا کے مطابق، ان کی تصویری نمائش کا افتتاح شام 7 بجے ہونا تھا، لیکن اسی دن دوپہر تقریباً 3:30 بجے انہیں انتظامیہ کی جانب سے نوٹس دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ نمائش کی ترتیب اور تمام تصاویر کی پی ڈی ایف فائل ایک ہفتہ پہلے ہی انتظامیہ کو فراہم کردی گئی تھی، لیکن اس دوران کسی تصویر پر اعتراض نہیں کیا گیا۔

ریحان کے مطابق، نمائش شروع ہونے سے تقریباً 24 گھنٹے پہلے انتظامیہ نے رابطہ کیا تھا۔ اگلے دن بیکارنیر ہاؤس کے پرنسپل ریذیڈنٹ کمشنر اور ڈپٹی ریذیڈنٹ کمشنر موقع پر پہنچے اور پہلی منزل پر موجود تقریباً 70 سے 74 تصاویر ہٹانے کو کہا۔

ان کا دعویٰ ہے کہ دوپہر 3:30 بجے جاری کیے گئے نوٹس میں کہا گیا تھا کہ اگر شام 5 بجے تک تصاویر نہیں ہٹائی گئیں تو عمارت کو سیل کرکے نمائش منسوخ کردی جائے گی۔

ترنگے والی تصاویر ہٹانے پر بھی اعتراض

ریحان واڈرا کے مطابق، ہٹائی جانے والی زیادہ تر تصاویر گزشتہ سال دہلی میں طلبہ اور نوجوانوں کی جانب سے کیے گئے شہری احتجاج اور مظاہروں سے متعلق تھیں۔ یہ تصاویر گلیوں اور عوامی مقامات پر روزمرہ واقعات کی عکاسی کرنے والی فوٹوگرافی کا حصہ تھیں۔

ریحان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے ہی سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کے چہروں پر مشتمل تصاویر نمائش سے ہٹا دی تھیں۔ اس کے باوجود انتظامیہ نے ہندوستانی قومی پرچم ترنگے والی دو تصاویر ہٹانے کو بھی کہا۔

ریحان نے مبینہ طور پر ان تصاویر کو ہٹانے کی وجہ تحریری طور پر طلب کی اور ترنگے والی تصویر ہٹانے سے انکار کردیا۔ تاہم، ان کے مطابق بعد میں ایک تصویر ہٹا دی گئی، جبکہ ایک تصویر اپنی جگہ موجود رہی۔

نمائش میں مجموعی طور پر 105 تصاویر رکھی گئی تھیں، لیکن تنازع کے بعد تقریباً 40 تصاویر ہی نمائش کے لیے باقی رہ سکیں۔

’مجھے اپنے بیٹے پر فخر ہے‘: رابرٹ واڈرا

رابرٹ واڈرا نے اس واقعے پر بیکارنیر ہاؤس انتظامیہ کے طریقۂ کار پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ریحان گزشتہ 6 سے 7 برسوں سے فوٹوگرافی اور تصویری نمائشوں کے شعبے میں کام کررہا ہے اور وہ ایک سنجیدہ اور حساس فنکار ہے۔

رابرٹ واڈرا کے مطابق، ریحان نے مقررہ طریقۂ کار پر عمل کرتے ہوئے نمائش کا پورا مواد ایک ہفتہ پہلے ہی انتظامیہ کے حوالے کردیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے پاس اعتراضات ظاہر کرنے کے لیے پورا ایک ہفتہ موجود تھا، لیکن افتتاح سے محض دو گھنٹے پہلے تصاویر ہٹانے کا مطالبہ کرنا درست نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے بیٹے پر فخر ہے، کیونکہ وہ ترنگے اور اپنی تخلیقی آزادی کے لیے مضبوطی سے کھڑا رہا۔

رابرٹ واڈرا نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا جمہوری ملک میں فنکاروں کو اپنی تخلیقات عوام کے سامنے پیش کرنے سے پہلے اس طرح کے انتظامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا؟

پرینکا گاندھی نے بھی بیٹے کی حمایت کی

پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے بیٹے کی حمایت کی۔ ریحان کے مطابق، انہیں خوشی ہے کہ ان کا پورا خاندان اس معاملے میں ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کارتی چدمبرم اور انڈین یوتھ کانگریس کے رہنماؤں نے بھی اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے فنکارانہ آزادی سے متعلق معاملہ قرار دیا۔

دوسری جانب، بیکارنیر ہاؤس انتظامیہ نے اپنے نوٹس میں احاطے کے داخلی ضابطوں اور غیر سیاسی نمائش کی پالیسی کی خلاف ورزی کا حوالہ دیا۔ اس طرح ایک تصویری نمائش سے شروع ہونے والا تنازع اب فنکارانہ اظہار کی آزادی اور عوامی ثقافتی اداروں کے ضابطوں سے متعلق بحث میں تبدیل ہوگیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read