ووٹ چوری اور چیف الیکشن کمیشن گیانیش کمار کے استعفیے کی مانگ سے متعلق دہلی میں مسلسل دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کا اثر اب بازاروں کے کاروبار پر بھی پڑنے لگا ہے۔ تاجروں کی تنظیم چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) کا دعویٰ ہے کہ اکتوبر میں اب تک دہلی کے کاروبار کو تقریباً 3000 کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر دیوالی تک مظاہرے نہیں رکے تو یہ نقصان 10000 کروڑ روپے سے تجاوز کر سکتا ہے۔ سی ٹی آئی کے چیئرمین برجیش گوئل کے مطابق، 10 اکتوبر کو ہونے والے مظاہرے سے کاروبار کو تقریباً 2000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ وہیں، 13 سے 16 اکتوبر کے درمیان وسطی دہلی میں راستے بند رہنے، میٹرو خدمات متاثر ہونے اور سینٹرل پارک بند رہنے کے سبب کاروبار کو مزید 1000 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
700 سے زیادہ بازاروں میں کاروبار متاثر
سی ٹی آئی کے مطابق، دہلی کے 700 سے زیادہ بازاروں میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ ان میں صدر بازار، چاندنی چوک، کشمیری گیٹ، چاوڑی بازار، گاندھی نگر، کرول باغ، کناٹ پلیس اور لاجپت رائے مارکیٹ جیسے بڑے بازار شامل ہیں۔ نوراتری اور دیوالی کے دوران خریداری بڑھنے کی امید تھی، لیکن مظاہروں کے باعث دکانوں پر گاہکوں کی آمد و رفت کم ہو گئی۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ مجموعی نقصان میں سب سے بڑا حصہ خوردہ کاروبار کا ہے۔ اس شعبے کو تقریباً 1800 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے، جبکہ تھوک کاروبار کو 600 کروڑ روپے کی چپت لگی ہے۔ سی ٹی آئی کے مطابق، سونی پت، پانی پت، گروگرام، فریدآباد، نوئیڈا، غازی آباد اور راجستھان سے آنے والے 3 سے 4 لاکھ تھوک خریدار دہلی نہیں پہنچ سکے۔ اس سے سامان کی سپلائی بھی متاثر ہوئی۔
ہوٹل، ریستوراں اور ٹیکسی والوں کی آمدنی بھی متاثر
مظاہروں اور راستے بند ہونے کا اثر ہوٹلوں، ریستورانوں، سنیما ہالوں، بیوٹی پارلروں، سیلون اور جم جیسے کاروبار پر بھی پڑا ہے۔ سی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ اس شعبے کو تقریباً 300 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ وہیں، آٹو، ٹیکسی، ای رکشہ اور سیاحت سے وابستہ کاروبار کو تقریباً 180 کروڑ روپے کی چپت لگی ہے۔ تنظیم کے مطابق، ٹریفک جام اور راستے بند ہونے کے سبب ٹرانسپورٹروں کے 5000 سے زیادہ ٹرک اور ٹیمپو پھنس گئے۔ اس سے سامان کی نقل و حمل بھی متاثر ہوئی۔
یومیہ مزدوروں کی روزی روٹی پر بحران
اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ پریشانی یومیہ مزدوروں، کاریگروں، ریڑھی پٹری والوں اور سامان لادنے اتارنے والے مزدوروں کو ہوئی ہے۔ سی ٹی آئی کے مطابق، اس شعبے کو تقریباً 120 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ گاندھی نگر اور صدر بازار میں 50 ہزار سے زیادہ یومیہ مزدوروں کے کام پر اثر پڑا۔
دیوالی تک نقصان بڑھنے کا خدشہ
سی ٹی آئی کے چیئرمین برجیش گوئل نے کہا کہ 10 اکتوبر کو دہلی میں لاک ڈاؤن جیسے حالات پیدا ہو گئے تھے۔ وہیں، 16 اکتوبر کو سینٹرل پارک بند رہا اور سکیورٹی کے لیے 10 ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ان حالات کے باعث تاجروں اور گاہکوں کے درمیان خوف کا ماحول پیدا ہوا۔ برجیش گوئل نے کہا کہ نوراتری، رام لیلا اور دیوالی تاجروں کے لیے کمائی کا سب سے اہم وقت ہوتا ہے۔ اگر اس دوران مسلسل مظاہرے ہوتے رہے تو کاروبار کو بھاری نقصان ہوگا اور دیوالی تک نقصان کا تخمینہ 10000 کروڑ روپے سے تجاوز کر سکتا ہے۔
حکومت سے سی ٹی آئی کے چار مطالبات
سی ٹی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دیوالی تک وسطی دہلی، نئی دہلی اور لٹینس زون میں دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں پر پابندی لگائی جائے۔ اس کے ساتھ ہی، براری، روہنی اور دوارکا جیسے علاقوں میں مظاہروں کے لیے مستقل مقامات مقرر کیے جائیں۔ تنظیم نے اکتوبر میں ہوئے نقصان کے پیش نظر تاجروں کے لیے راحت پیکیج دینے اور بجلی، پانی کے بلوں اور جی ایس ٹی میں چھوٹ دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، سی ٹی آئی نے پولیس انتظامیہ سے کہا ہے کہ دکانداروں پر دکانیں بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے بجائے بازاروں کو کھلا رکھنے کے لیے سکیورٹی فراہم کی جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


