Bharat Express DD Free Dish

Ankita Bhandari Murder: دشیانت گوتم کو گورنر بنائے جانے پر حیران ہوں، انکیتا بھنڈاری قتل کیس کی تحقیقات مکمل ہونے تک تقرری روکیں، راہل گاندھی کا صدر جمہوریہ کو خط

کانگریس لیڈر نے صدر دروپدی مرمو سے دشیانت گوتم کی تقرری پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کی، کہا کہ انکیتا کے والدین کی انصاف کی امید نہ ٹوٹنے دیں۔ راہل گاندھی نے والدین کو حراست میں لیے جانے پر بھی حکومت کو نشانہ بنایا۔

نئی دہلی: کانگریس انکیتا بھنڈاری قتل کیس میں مبینہ ’وی آئی پی‘ کے انکشاف سے متعلق سی بی آئی جانچ کے دوران دشیانت گوتم کو سکم کا گورنر مقرر کیے جانے کی مسلسل مخالفت کر رہی ہے۔ پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی نے گزشتہ روز انڈیا گیٹ پر احتجاج کرنے والے انکیتا کے اہل خانہ سے ملاقات کی تھی اور انہیں انصاف ملنے تک ساتھ دینے کا یقین دلایا تھا۔ اب راہل گاندھی نے صدر کو خط لکھ کر دشیانت گوتم کی تقرری پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے درخواست کی کہ انکیتا کے والدین کی انصاف کی امید نہ ٹوٹنے دی جائے۔

انکیتا نے وی آئی پی کے لیے سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا تھا: راہل

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے جمعرات کو صدر دروپدی مرمو کو بھیجے گئے خط میں کہا، ’’19 سالہ انکیتا بھنڈاری نے ایک وی آئی پی کے لیے اپنی عزت سے سمجھوتہ کرنے سے انکار کردیا تھا، جس کے باعث اس کا قتل کردیا گیا۔ چار سال بعد بھی سی بی آئی کی سست رفتار جانچ کی وجہ سے یہ سوال برقرار ہے کہ آخر وہ وی آئی پی کون تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ انکیتا کے اہل خانہ سمیت کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ دشیانت گوتم اس معاملے سے وابستہ ہیں۔ ایسے میں انہیں سکم کا نیا گورنر مقرر کیے جانے پر وہ حیران ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق گورنر کے عہدے پر رہتے ہوئے ان کے خلاف کوئی مجرمانہ کارروائی نہیں کی جاسکتی۔

تقرری پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل

راہل گاندھی نے خط میں کہا کہ دشیانت گوتم کو گورنر مقرر کرنے کی سفارش کرکے وزیر اعظم نریندر مودی نے ثابت کردیا ہے کہ انہیں خواتین کی سلامتی کی کوئی فکر نہیں ہے۔ انہوں نے صدر سے اپیل کی کہ حکومت کو اس تقرری پر دوبارہ غور کرنے اور جانچ مکمل ہونے تک دشیانت گوتم کو عہدہ سنبھالنے سے روکنے کا مشورہ دیا جائے۔ خط کے آخر میں راہل گاندھی نے کہا کہ انکیتا کے والدین کی انصاف کی امید نہ ٹوٹنے دی جائے۔

لوک بھون کے باہر کانگریس کا احتجاج

دشیانت گوتم کو سکم کا گورنر مقرر کیے جانے کے خلاف کانگریس کا احتجاج تیز ہوگیا ہے۔ جمعرات کو پارٹی نے دہرادون میں واقع لوک بھون کے باہر زبردست مظاہرہ کیا۔ اس احتجاج میں کانگریس کے بڑی تعداد میں کارکنوں کے ساتھ اتراکھنڈ یونٹ کے صدر گنیش گودیال، سابق وزیر اعلیٰ ہریش راوت اور ریاستی انتخابی انتظامی کمیٹی کے صدر ہرک سنگھ راوت سمیت کئی سینئر لیڈر موجود تھے۔ اس سے پہلے جمعرات کی صبح راہل گاندھی نے انکیتا کے والدین کو حراست میں لیے جانے پر حکومت کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی متاثرہ خاندان کے ساتھ اس وقت تک کھڑی رہے گی، جب تک اسے انصاف نہیں مل جاتا۔ پولیس نے انکیتا کے والدین سمیت کانگریس کے کئی لیڈروں کو حراست میں لے لیا تھا، تاہم بعد میں انہیں رہا کردیا گیا۔

والدین کو حراست میں لیے جانے پر راہل گاندھی برہم

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ صبح چار بجے انکیتا کے والدین کو اس وقت حراست میں لے لیا گیا، جب وہ انڈیا گیٹ پر پرامن طور پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ والدین کا مطالبہ تھا کہ سی بی آئی کی جانچ مکمل ہونے تک بی جے پی لیڈر دشیانت گوتم کو سکم کا گورنر مقرر نہ کیا جائے۔ راہل گاندھی نے یہ بھی بتایا کہ وہ اور پرینکا گاندھی واڈرا ایک روز پہلے، بدھ کو انڈیا گیٹ پر انکیتا کے والدین سے ملے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا، ’’جس جانچ کا نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا، اس سے پہلے ہی تقرری کردی گئی اور سوال پوچھنے والے ماں باپ کو رات کے اندھیرے میں اٹھا لیا گیا۔‘‘ کانگریس لیڈر نے کہا، ’’لیکن انصاف کی لڑائی نہ دبے گی، نہ رکے گی۔ کانگریس انکیتا کے خاندان کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی، جب تک انہیں انصاف نہیں مل جاتا۔‘‘

2022 میں ہوئی تھی انکیتا بھنڈاری کی موت

اتراکھنڈ کے رشی کیش کے قریب واقع وننترا ریزورٹ میں ریسپشنسٹ کے طور پر کام کرنے والی 19 سالہ انکیتا بھنڈاری کا ستمبر 2022 میں قتل کردیا گیا تھا۔ اس معاملے میں ریزورٹ کے مالک پلکت آریہ اور اس کے دو ملازمین کو عدالت نے قصوروار قرار دیا تھا۔ عدالت نے تینوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read