نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بدھ کو نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے لے کر پولیس کے سپاہی تک، جو بھی قصوروار ہوگا، اسے سزا دلوائی جائے گی۔ انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے تمام ویڈیو اور دیگر ثبوت محفوظ رکھیں اور انہیں ان تک پہنچائیں۔راہل گاندھی نے کہا کہ یہ ہندوستان ہے اور یہاں کسی ایک مذہب، ذات، عورت یا مرد کی نہیں، بلکہ سب کی مشترکہ آواز ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جیسا کہ میں نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا، یہ ہندوستان ہے۔ امت شاہ جی، اسے اچھی طرح دیکھیے۔ یہاں نہ کوئی ہندو ہے، نہ مسلمان، نہ کسی خاص ذات کا کوئی فرد، نہ کوئی عورت اور نہ کوئی مرد۔ یہاں صرف ایک آواز ہے اور ایک ہی احتجاج ہے۔ یہ ہندوستان کی آواز ہے اور آپ اس آواز کے خلاف کھڑے ہیں۔ وزیر اعظم بھی اس آواز کے خلاف کھڑے ہیں۔ میرا آپ کو مشورہ ہے کہ اس آواز کے خلاف کھڑے نہ ہوں، کیونکہ کوئی بھی اس آواز کو نہیں دبا سکتا۔‘‘
تمام ثبوت محفوظ رکھیں، قصورواروں کو سزا ملے گی
راہل گاندھی نے پولیس اہلکاروں کے مبینہ تشدد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تمام طلبہ سے کہا ہے کہ وہ واقعات کی ویڈیو ریکارڈنگ محفوظ رکھیں اور ثبوت انہیں بھیجیں۔ ان کے مطابق، جب یہ معاملہ مکمل طور پر سامنے آجائے گا تو ان ثبوتوں کی مدد سے قصورواروں کے خلاف کارروائی یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے کہا، ’’جب یہ پورا معاملہ ختم ہوگا تو ہم ان تمام ثبوتوں کا استعمال کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جسے سزا ملنی چاہیے، اسے سزا ملے۔ وزیر اعظم سے لے کر گیانیش کمار، امت شاہ اور یہاں تک کہ ان سپاہیوں کو بھی سزا ملے گی جو ہمارے بچوں پر ہاتھ اٹھا رہے ہیں۔ بس آپ تمام ثبوت اپنے پاس محفوظ رکھیے۔‘‘پریس کانفرنس کے دوران راہل گاندھی اپنے ساتھ چند طلبہ کو بھی لائے تھے۔ ان طلبہ نے پولیس حراست کے دوران مبینہ مارپیٹ اور بدسلوکی کے بارے میں اپنے تجربات بیان کیے۔
’پولیس اہلکاروں نے کہا، بلالو اپنے لیڈر کو‘
دھریندر کمار نامی ایک طالب علم نے پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ پولیس اہلکاروں نے طلبہ کے ساتھ مارپیٹ کی اور انہیں دھمکیاں دیں۔ اس نے کہا، ’’پولیس والوں نے ہم سے کہا کہ بولو، دہلی پولیس تمہارے پاپا ہیں۔ ہمیں بہت مارا گیا۔ انکت کسنا نام کے ایک پولیس اہلکار نے ہم سے کہا کہ اپنے لیڈر کو بلا لو، تمہیں بچانے کوئی نہیں آئے گا۔‘‘دھریندر کمار نے مزید کہا کہ وہ دوبارہ احتجاج میں شامل ہوں گے اور ناانصافی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ اس نے کہا، ’’ہم دوبارہ احتجاج میں جائیں گے، لیکن ناانصافی کے سامنے جھکیں گے نہیں۔ ہم لڑیں گے اور جیتیں گے۔‘‘
طالب علم نے پارلیمنٹ پولیس اسٹیشن میں مارپیٹ کا الزام لگایا
سمتھ نامی ایک دوسرے طالب علم نے بتایا کہ وہ لوگ 4 اکتوبر سے پُرامن احتجاج کررہے تھے اور 5 اکتوبر کو انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے مطابق، انہیں پارلیمنٹ پولیس اسٹیشن لے جایا گیا، جہاں وہاب سنگھ تومر نامی پولیس اہلکار سمیت تقریباً 20 پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ مبینہ طور پر بری طرح مارپیٹ کی۔طالب علم نے الزام لگایا کہ اس کے بعد انہیں پچھلے راستے سے باہر نکالا گیا اور کانسٹیبل انکت کسنا مارپیٹ کرتے ہوئے انہیں پارلیمنٹ پولیس اسٹیشن سے دہلی کینٹ تک لے گئے۔سمتھ نے مزید دعویٰ کیا کہ جب اس کے ساتھی دھریندر نے پولیس اہلکاروں سے کہا کہ اسے قے آرہی ہے تو انہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ اپنا بیگ کھولو اور اسی میں قے کرو۔راہل گاندھی کی پریس کانفرنس میں طلبہ کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کے بعد معاملے نے سیاسی اہمیت اختیار کرلی ہے۔ کانگریس رہنما نے قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام ثبوت محفوظ رکھنا ضروری ہے، تاکہ بعد میں ان کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


