Bharat Express DD Free Dish

Bollywood Actor Imran Khan: اداکار عمران خان سمیت 400 سے زائد افراد کے خلاف ایف آئی آر درج، ممبئی میں احتجاج کے دوران لیے گئے تھے حراست میں

پولیس وین میں بیٹھنے سے پہلے عمران خان نے احتجاج میں شرکت کی وجہ بھی واضح کی تھی۔ انہوں نے کہا، ’’میرا کوئی مطالبہ نہیں ہے۔ میری ایسی کوئی حیثیت نہیں کہ میں لوگوں سے کچھ مانگوں۔ میں کسی تنظیم کا حصہ بھی نہیں ہوں، اس لیے کسی کی نمائندگی کرتے ہوئے بات نہیں کر رہا ہوں۔‘‘اداکار کے اس بیان سے واضح ہوا کہ وہ کسی تنظیم کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک شہری کے طور پر احتجاج میں شامل ہوئے تھے۔

نئی دہلی : بالی ووڈ اداکار عمران خان ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ ممبئی کے اگست کرانتی میدان میں ہونے والے ایک احتجاج کے سلسلے میں اداکار سمیت 400 سے زیادہ افراد کے خلاف پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے۔ یہ مظاہرہ دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر کیا گیا تھا۔ احتجاج کے دوران ممبئی پولیس نے عمران خان سمیت 400 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا تھا۔ممبئی پولیس کے مطابق، اس معاملے میں جنوبی ممبئی کے گام دیوی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 223، 126(2)، 189(2)، 189(3) اور 189(5) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ دفعات حکم عدولی، غیر قانونی طور پر روکنے اور غیر قانونی اجتماع سے متعلق معاملات میں لگائی جاتی ہیں۔ اس معاملے میں پولیس اہلکار خود شکایت کنندہ بنے ہیں۔

پولیس وین سے تصویر شیئر کرکے کیا دلچسپ تبصرہ

ہفتے کے روز حراست میں لیے جانے کے بعد عمران خان نے سوشل میڈیا پر پولیس وین کے اندر سے اپنی ایک تصویر شیئر کی۔ اس کے ساتھ انہوں نے مزاحیہ انداز میں لکھا، ’’لگتا ہے میں ڈرائیو پر جا رہا ہوں۔‘‘ان کی اس پوسٹ نے سوشل میڈیا پر لوگوں کی توجہ حاصل کی۔ اس دوران ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی، جس میں عمران خان پولیس اہلکاروں کو ’’جے ہند‘‘ کہتے ہوئے سنائی دیے۔ایک دوسری ویڈیو میں اداکار نے اپنی حراست پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے واقعی نہیں معلوم کہ مجھے یہاں کیوں لایا گیا ہے۔ انہوں نے ہم سب کو سڑکوں سے اٹھایا اور وین میں بیٹھنے کے لیے کہا۔‘‘ عمران خان کے مطابق، رہائی سے پہلے انہیں اور دیگر افراد کو پولیس وین میں تقریباً دو گھنٹے تک گھمایا گیا۔

احتجاج میں شامل ہونے کی وجہ بھی بتائی

پولیس وین میں بیٹھنے سے پہلے عمران خان نے احتجاج میں شرکت کی وجہ بھی واضح کی تھی۔ انہوں نے کہا، ’’میرا کوئی مطالبہ نہیں ہے۔ میری ایسی کوئی حیثیت نہیں کہ میں لوگوں سے کچھ مانگوں۔ میں کسی تنظیم کا حصہ بھی نہیں ہوں، اس لیے کسی کی نمائندگی کرتے ہوئے بات نہیں کر رہا ہوں۔‘‘اداکار کے اس بیان سے واضح ہوا کہ وہ کسی تنظیم کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک شہری کے طور پر احتجاج میں شامل ہوئے تھے۔

لیکھا واشنگٹن اور زین میری خان بھی حراست میں

اس احتجاج کے دوران عمران خان کے ساتھ ان کی گرل فرینڈ لیکھا واشنگٹن اور ان کی کزن زین میری خان کو بھی اگست کرانتی میدان سے حراست میں لیا گیا تھا۔ دونوں نے بھی سوشل میڈیا پر پولیس وین کے اندر سے مسلسل معلومات شیئر کیں۔

ایس آئی آر کے خلاف بھی احتجاج

واضح رہے کہ یہ احتجاج چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر کیا گیا تھا۔ مظاہرین نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل پر بھی اعتراضات اٹھائے تھے۔پولیس نے احتجاج کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں کو حراست میں لیا اور بعد میں اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی۔ تاہم، ایف آئی آر درج ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ نامزد افراد پر لگائے گئے الزامات ثابت ہو گئے ہیں۔ معاملے میں قانونی کارروائی جاری ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read