نئی دہلی: چیک باؤنس کے معاملے میں قصوروار قرار دیے گئے بالی ووڈ اداکار راج پال یادو کی مشکلات ایک بار پھر بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔ سپریم کورٹ نے پیر کے روز رقم کی ادائیگی اور عدالتی احکامات کی تعمیل سے متعلق ان کے اب تک کے طریقۂ کار پر ناراضی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کہا کہ راج پال یادو کو رقم جمع کرانے کے لیے بار بار مواقع دیے گئے، لیکن عدالتی احکامات پر مکمل طور پر عمل نہیں کیا گیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ شکایت کنندہ کو اس کی رقم کا کچھ حصہ واپس ملنے کی امید کے پیش نظر اب تک راج پال یادو کے معاملے میں نرمی برتی جاتی رہی ہے۔ سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ اگر شکایت کنندہ کو کچھ رقم واپس ملنے کی امید نہ ہوتی تو عدالت اداکار کی سزا کے خلاف دائر اپیل کو خارج کرنے پر غور کر سکتی تھی۔ سپریم کورٹ نے راج پال یادو کو عدالتی حکم پر عمل کرنے کے لیے منگل تک آخری موقع دیا ہے۔ اس معاملے میں بدھ کے روز دوبارہ سماعت ہوگی۔
5 کروڑ روپے کی مالی مدد سے شروع ہوا تھا معاملہ
یہ معاملہ طویل عرصے سے زیر التوا چیک باؤنس کے سات مقدمات سے متعلق ہے۔ راج پال یادو نے 2010 میں اپنی فلم ’اتا پتا لاپتا‘ کی تیاری کے لیے مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے تقریباً 5 کروڑ روپے کی مالی مدد لی تھی۔ فلم توقع کے مطابق کامیاب نہیں ہوئی، جس کے بعد رقم کی واپسی کو لے کر تنازع شروع ہوگیا۔ شکایت کنندہ کے مطابق، 2012 میں ہوئے ایک معاہدے میں راج پال یادو، ان کی اہلیہ رادھا یادو اور ان کی کمپنی نے سود سمیت تقریباً 11 کروڑ روپے واپس کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اس کے بعد 2013 میں راج پال یادو کی جانب سے 1.05 کروڑ روپے کے سات چیک جاری کیے گئے، لیکن یہ تمام چیک باؤنس ہوگئے۔
2018 میں مجسٹریٹ کورٹ نے سنائی تھی سزا
اس کے بعد مرلی پروجیکٹس نے چیک باؤنس کے سات الگ الگ مقدمات درج کرائے۔ اپریل 2018 میں مجسٹریٹ کورٹ نے راج پال یادو کو قصوروار قرار دیتے ہوئے چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ بعد میں معاملہ سیشن کورٹ اور پھر دہلی ہائی کورٹ تک پہنچا۔ کئی برسوں تک اس معاملے میں سزا پر روک، ادائیگی اور سمجھوتے کی کوششیں جاری رہیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے جولائی 2026 میں راج پال یادو کی قصوروار قرار دیے جانے کی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے ساتوں مقدمات میں تین، تین ماہ کی سادہ قید کی سزا سنائی۔ اس معاملے میں فروری 2026 میں بھی راج پال یادو کو جیل جانا پڑا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ نے بار بار ادائیگی کے وعدے پورے نہ ہونے پر ان کی سزا پر ملی راحت ختم کردی تھی اور انہیں جیل حکام کے سامنے خودسپردگی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ عدالت نے اس وقت کہا تھا کہ راج پال یادو کو متعدد مواقع دیے جا چکے ہیں، لیکن شکایت کنندہ کمپنی کو ادائیگی کے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔
سپریم کورٹ نے 5 کروڑ روپے جمع کرانے کی شرط رکھی تھی
اس کے بعد راج پال یادو نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ 8 ستمبر کو سپریم کورٹ نے انہیں خودسپردگی سے عبوری راحت دی تھی، تاہم اس کے لیے عدالت کی رجسٹری میں 5 کروڑ روپے جمع کرانے کی شرط رکھی گئی تھی۔ 15 ستمبر کو معاملہ دوبارہ سپریم کورٹ میں پہنچا تو راج پال یادو کی جانب سے رقم جمع کرانے کے لیے مزید وقت مانگا گیا۔ عدالت نے انہیں آخری موقع دیتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر 2 کروڑ روپے جمع کرانے اور باقی رقم کی ادائیگی کے لیے ٹھوس تجویز پیش کرنے کو کہا تھا۔ ساتھ ہی خودسپردگی سے ملی عبوری راحت کو 5 اکتوبر تک بڑھا دیا گیا تھا۔ اب پیر کی سماعت میں سپریم کورٹ نے ایک بار پھر راج پال یادو کی جانب سے ادائیگی اور عدالتی احکامات کی تعمیل کے معاملے پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


