نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے این آئی اے کیس کے ملزم محمد شہزاد کمال کو پانچ سال سے زائد عرصے تک حراست میں رہنے اور مقدمے کی آئندہ قریبی مدت میں تکمیل کے امکانات نہ ہونے کے پیشِ نظر ضمانت منظور کرلی ہے۔ یہ ضمانت ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی جانب سے پیروی کے بعد ملی ہے۔ جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس ارون بھاردواج پر مشتمل دہلی ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ نے یکم اکتوبر 2026 کو محمد شہزاد کمال بنام این آئی اے کے درمیان مقدمے میں فیصلہ سنایا۔ عدالت کے سامنے اپیل خصوصی این آئی اے عدالت کے29/ مئی 2024 کے اس حکم کے خلاف دائر کی گئی تھی جس کے ذریعے شہزاد کمال کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔
محمد شہزاد کمال کو 13/اگست ـ2021 کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے ہی وہ تہاڑ جیل میں عدالتی حراست میں تھے۔ استغاثہ کے مطابق یہ مقدمہ حرکتُ الحرب الاسلام سے متعلق ہے، جسے استغاثہ نے داعش (آئی ایس آئی ایس) سے وابستہ قرار دیا ہے۔ استغاثہ کا الزام ہے کہ ایم. شہزاد کمال مبینہ سازش میں شامل تھے اور تنظیم کی سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کی تھی۔ ان کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعہ 121 اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) 1967 کی دفعات 17، 18، 39 اور 40 کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔ دہلی ہائی کورٹ نے ضمانت کی درخواست پر غور کرتے ہوئے اس امر کو اہم قرار دیا کہ ملزم پانچ سال سے زائد عرصے سے حراست میں ہے جبکہ مقدمے کی سماعت مستقبل قریب میں مکمل ہونے کے امکانات نظر نہیں آتے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اسی مقدمے کے بعض دیگر ملزمان کو پہلے ہی ضمانت دی جاچکی ہے۔ عدالت نےمزید مشاہدہ کیا کہ موجودہ مرحلے پر ایسا کوئی مثبت ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ مبینہ طور پر قابلِ اعتراض چیٹس خود اپیل کنندہ کی جانب سے بھیجی گئی تھیں یا ان سے مخاطب تھیں۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ ضمانت کے مرحلے پر کیے گئے یہ مشاہدات مقدمے کے حتمی میرٹ پر فیصلہ تصور نہیں کیے جائیں گے۔
ہائی کورٹ نے طویل عرصے تک زیرِ سماعت مقدمے میں قبل از سماعت حراست، آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت حاصل حقوق اور UAPA کی دفعہ 43-D(5) کے قانونی تقاضوں کوبھی مدنظر رکھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ تیز رفتار سماعت کا آئینی حق کسی ملزم کی مسلسل حراست کا جائزہ لیتے وقت متعلقہ رہتا ہے اور ہر ملزم کے معاملے کا اس کے مخصوص حالات کی بنیاد پر الگ سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ عدالت نے خصوصی این آئی اے عدالت کے 29 مئی 2024 کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محمد شہزاد کمال کو ضمانت پر رہا کرنے کی ہدایت کی، تاہم اس کے لیے متعدد شرائط عائد کی گئی ہیں۔ ان میں 50 ہزار روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرانا، پاسپورٹ عدالت میں جمع کرانا، بھارت سے باہر جانے پر پابندی، ہاپوڑ ضلع سے باہر جانے پر پابندی، ٹرائل کورٹ میں باقاعدگی سے حاضری، گواہوں اور شریک ملزمان سے رابطہ نہ کرنا اور متعلقہ این آئی اے برانچ میں مقررہ وقفوں سے رپورٹ کرنا شامل ہے۔
عدالت نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ محمد شہزاد کمال مقدمے کی میرٹ، شواہد، گواہوں یا زیرِ سماعت کارروائی سے متعلق عوامی سطح پر کوئی بیان جاری نہیں کریں گے۔ انہیں شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ یا عدالتی کارروائی میں کسی بھی طرح کی مداخلت سے بھی روکا گیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں ضمانت منسوخ کرنے کے لیے درخواست دائر کی جاسکتی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر کہا کہ ضمانت کے مرحلے پر کیے گئے عدالتی مشاہدات صرف ضمانت کی درخواست کے فیصلے تک محدود ہیں اور انہیں مقدمے کے حتمی میرٹ پر رائے نہیں سمجھا جائے گا۔ چنانچہ محمد شہزاد کمال کے خلاف اصل مقدمے کی سماعت خصوصی این آئی اے عدالت میں جاری رہے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



