نئی دہلی : آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے ریاست کے دھوبری ضلع کے چھاپر میں اڈانی پاور کے 3200 میگاواٹ کے کوئلے پر مبنی تھرمل پاور پلانٹ کو آسام کے توانائی شعبے کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف آسام بلکہ پورے شمال مشرقی ہندوستان کے لیے اہم ہے اور خطے کا سب سے بڑا تھرمل پاور پروجیکٹ ہوگا۔
آسام کے توانائی شعبے میں تبدیلی کے سفر کا تاریخی دن
سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہیمنت بسوا سرما نے کہا، آج آسام کے توانائی شعبے میں تبدیلی کے سفر کا ایک تاریخی دن ہے۔ مجھے بے حد خوشی اور فخر ہے کہ دھوبری ضلع کے چھاپر میں 3200 میگاواٹ کے اس بڑے کوئلے پر مبنی تھرمل پاور پروجیکٹ کی سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں موجود ہوں۔انہوں نے کہا کہ چھاپر کی زمین پر قائم ہونے والے اس تھرمل پاور پروجیکٹ کا سنگ بنیاد آسام کے توانائی شعبے میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ صرف آسام کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے شمال مشرقی ہندوستان کے لیے اہم ہے، کیونکہ یہ خطے کا سب سے بڑا تھرمل پاور پروجیکٹ ہوگا۔
’آسام میں سب سے بڑی صنعتی سرمایہ کاری ہوگی‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 48000 کروڑ روپے کی لاگت والا یہ منصوبہ آسام میں اب تک کی سب سے بڑی صنعتی سرمایہ کاری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے دھوبری جیسے نسبتاً پسماندہ ضلع کی سماجی اور اقتصادی ترقی پر بھی نمایاں اثر پڑے گا۔ہیمنت بسوا سرما نے کہا، یہ 3200 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ ہے۔ سالاکاٹی میں 800 میگاواٹ کا تھرمل پاور پروجیکٹ موجود ہے۔ یہ پاور پروجیکٹ سالاکاٹی کے منصوبے سے چار گنا بڑا ہے۔ اڈانی گروپ اس میں 48000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔ میرے خیال میں یہ آسام میں سب سے بڑی صنعتی سرمایہ کاری ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ دھوبری جیسے نسبتاً پسماندہ ضلع میں اس نوعیت کی صنعت کے آنے سے اس علاقے کی سماجی اور اقتصادی ترقی کو نمایاں فائدہ پہنچے گا۔
3200 میگاواٹ کا الٹرا سپر کریٹیکل تھرمل پاور پلانٹ
اڈانی پاور کی جانب سے تیار کیے جانے والے 4×800 میگاواٹ کے اس تھرمل پاور منصوبے پر تقریباً 48000 کروڑ روپے کی لاگت آنے کا اندازہ ہے۔ آسام حکومت کے مطابق منصوبے کی تعمیر کے دوران 20000 سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، جبکہ پلانٹ کے آپریشنل ہونے کے بعد 5000 سے زیادہ افراد کو روزگار مل سکتا ہے۔منصوبے کے تحت 3200 میگاواٹ بجلی کی ترسیل کے لیے ٹرانسمیشن بنیادی ڈھانچہ بھی تیار کیا جائے گا۔ آسام الیکٹریسٹی گرڈ کارپوریشن لمیٹڈ نے اس کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے، جس میں 400 کے وی چھاپر-رنگیا ٹرانسمیشن لائن اور متعلقہ سب اسٹیشن شامل ہیں۔دستاویزات کے مطابق مجوزہ پلانٹ میں 800 میگاواٹ کی چار یونٹس ہوں گی اور اسے تقریباً 585 ہیکٹیئر اراضی پر تیار کیا جائے گا۔ اس اراضی میں سرکاری اور نجی دونوں ملکیت والی زمین شامل ہے۔یہ منصوبہ آسام کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ ریاستی حکومت کا مقصد مقامی سطح پر بجلی کی پیداوار بڑھانا اور بیرونی ریاستوں سے بجلی حاصل کرنے پر انحصار کم کرنا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


