Bharat Express DD Free Dish

Viksit Bharat 2047

آچاریہ لوکیش کے خطاب نے سیمینار میں موجود سیکڑوں نوجوانوں، فوجیوں اور دانشوروں میں نیا جوش پیدا کیا۔ پروگرام کا اختتام اس اجتماعی عزم کے ساتھ ہوا کہ قومی مفاد، نظم و ضبط، مثبت سوچ اور اقدار پر مبنی ترقی کے راستے پر چلتے ہوئے بھارت 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بننے کے ساتھ دنیا کو امن اور ہم آہنگی کی راہ دکھانے والا ’وشو گرو‘ بننے کی سمت بھی آگے بڑھے گا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 48000 کروڑ روپے کی لاگت والا یہ منصوبہ آسام میں اب تک کی سب سے بڑی صنعتی سرمایہ کاری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے دھوبری جیسے نسبتاً پسماندہ ضلع کی سماجی اور اقتصادی ترقی پر بھی نمایاں اثر پڑے گا۔ہیمنت بسوا سرما نے کہا، یہ 3200 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ ہے۔ سالاکاٹی میں 800 میگاواٹ کا تھرمل پاور پروجیکٹ موجود ہے۔

جیت اڈانی نے کہا، ’’اگرچہ وہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیں، لیکن کئی بار ان کے کام کرنے کے انداز کو دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ وہ آسام کے سی ای او ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہر منصوبے کی پیش رفت، مقررہ وقت اور عمل درآمد پر نظر رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہی امتزاج آسام کی ترقی کو نئی رفتار دے رہا ہے۔

مہم کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت ملک کے لیے انتودیہ اور عوامی بہبود کی ایک منفرد مثال رہی ہے۔ اسی جذبۂ خدمت کو گھر گھر تک پہنچانے کے لیے 17 ستمبر سے 17 اکتوبر 2026 تک ایک ماہ طویل خصوصی مہم چلائی جائے گی۔ اس مہم کی تھیم جن سیوا ہی پربھو سیوا رکھی گئی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے وڈودرا میں ہزاروں کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور تکمیل پر عوام کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں کئی اہم منصوبے مکمل ہوئے ہیں، جو ترقی کو نئی رفتار فراہم کریں گے۔پی ایم مودی نے اس دوران ’سوچھتا سے سواگت‘ مہم میں لوگوں کی شرکت کی بھی تعریف کی اور اس کے لیے سب کو مبارکباد دی۔

وزیراعظم نریندر مودی کئی مواقع پر نوجوانوں کی کاروباری صلاحیت کو’وکست بھارت‘ کا اہم ستون قرار دے چکے ہیں۔ مودی حکومت کے تحت ملک کے اسٹارٹ اَپ ایکو سسٹم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2047 کے ہدف کی بنیاد گزشتہ برسوں میں حاصل ہونے والی کامیابیوں پر ہے۔ انہوں نے اصلاحات کی رفتار مزید بڑھانے اور روایتی سوچ اور کام کرنے کے طریقوں میں تبدیلی لانے پر زور دیا۔ مودی نے توانائی کے تحفظ کو مستقبل کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کا ہدف 100 گیگاواٹ ایٹمی توانائی کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔

اجلاس میں مختلف شعبوں میں مؤثر عمل درآمد، بہتر ہم آہنگی اور ’وکست بھارت‘ کے اہداف کی جانب تیز رفتار پیش رفت پر جامع اور نتیجہ خیز تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں کابینہ سکریٹری، اہم وزارتوں کے سکریٹریز اور وزیر اعظم کے دفتر کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ افسران کو اپنے عہدے یا اختیارات سے نہیں بلکہ اپنے کام کے ٹھوس اور قابل پیمائش نتائج سے اطمینان حاصل کرنا چاہیے۔ انہوں نے ملک کی تعمیر میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ موجودہ بیچ میں 40 فیصد سے زائد افسران خواتین ہیں۔

بھارت اور فرانس نے مصنوعی ذہانت کے ضابطہ کار، معیار سازی اور تکنیکی امور میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے، تاکہ جدید اور جنریٹو اے آئی ماڈلز کے لیے خطرات پر مبنی اور ہم آہنگ پالیسیوں کو فروغ دیا جا سکے، جب کہ اختراع اور قومی ترقی کی رفتار بھی متاثر نہ ہو۔