مدھیہ پردیش کے اندور میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے حکومت اور موجودہ نظام پر کئی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کو طلبہ نہیں بلکہ اندھ بھگت چاہئیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ سوال کرتے ہیں، وہ متجسس ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس نظام کو طلبہ سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ پوچھتے ہیں کہ دو لوگوں نے پورے نظام پر کیسے قبضہ کرلیا؟ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ’’اندھ بھگت نفرت سے بات کرتا ہے اور نفرت پھیلاتا ہے، جبکہ طالب علم ایماندار ہوتا ہے اور اندھ بھگت جھوٹا ہوتا ہے۔‘‘
’طلبہ ہر بات صرف اس لیے نہیں مانتے کہ انہیں ایسا بتایا گیا‘
راہل گاندھی نے کہا کہ طالب علم کسی بات کو صرف اس لیے تسلیم نہیں کرتا کہ اسے ایسا بتایا گیا ہے، بلکہ وہ اس کی وجہ جاننا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق نظام ایسے لوگوں کو آگے بڑھاتا ہے جو سوال پوچھنے کے بجائے ہر بات کو مان لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کا طالب علم سوال کرتا ہے کہ اسکول اور کالجوں کی حالت ایسی کیوں ہے، امتحانات کے پرچے لیک کیوں ہو رہے ہیں اور نوجوانوں کو روزگار کیوں نہیں مل رہا۔ ان کی بات سنی جانی چاہیے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ ہندوستان کا مستقبل ہیں اور ان کے بغیر کوئی بھی ملک مضبوط نہیں بن سکتا۔
’طلبہ دھمکاتے یا ڈراتے نہیں ہیں‘
راہل گاندھی نے طلبہ کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ فطری طور پر سوال کرتے ہیں اور متجسس ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ لڑتے نہیں، دھمکاتے نہیں اور ڈراتے نہیں، بلکہ ان کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایماندار ہوتے ہیں اور ایمانداری سے کام کرتے ہیں۔
طالبہ نے راہل گاندھی کو کیا بتایا؟
’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران ایک طالبہ نے راہل گاندھی کو بتایا کہ مدھیہ پردیش میں سرکاری امتحانات پاس کرنے کے باوجود ان جیسے کئی امیدوار پریشان ہیں، کیونکہ 13 فیصد تقرریاں قانونی تنازع کی وجہ سے روک دی گئی ہیں۔ وہیں مدھیہ پردیش کے دیواس کے ایک طالب علم نے راہل گاندھی سے کہا کہ ایم پی پی ایس سی میں بے ضابطگیوں کو اجاگر کرنے کے بعد ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی اور انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ اندور میں منعقد ہونے والا ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام اس مہم کا پانچواں ایڈیشن ہے۔ اس کی شروعات راہل گاندھی نے کوٹا سے کی تھی۔ اس سے قبل وہ دہرادون، دہلی، پریاگ راج اور پونے میں بھی ’چھاتروں کی گونج‘ پروگراموں سے خطاب کر چکے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


