لکھنؤ: اتر پردیش کے سابق وزیر رام آسرے کشواہا نے بھارتیہ جنتا پارٹی چھوڑ کر ایک بار پھر سماج وادی پارٹی کا دامن تھام لیا ہے۔ انہوں نے 17 ستمبر 2026 کو سماج وادی پارٹی کی رکنیت حاصل کی۔ تقریباً 13 سال بعد ان کی سماج وادی پارٹی میں واپسی ہوئی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیاں تیز ہیں۔
بہوجن سماج پارٹی سے شروع کیا سیاسی سفر
رام آسرے کشواہا کا تعلق کانپور سے ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز بہوجن سماج پارٹی سے کیا تھا۔ 1996 میں وہ بی ایس پی کے ٹکٹ پر اسمبلی رکن منتخب ہوئے۔ اس کے بعد وہ سماج وادی پارٹی میں شامل ہوگئے، جہاں انہیں تنظیم میں اہم ذمہ داریاں دی گئیں۔ بعد میں وہ پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری بھی رہے۔ سماج وادی پارٹی میں رہتے ہوئے رام آسرے کشواہا کی قربت پارٹی کے بانی ملائم سنگھ یادو سے بھی رہی۔ وہ طویل عرصے تک اتر پردیش کی سیاست میں سرگرم رہے اور پسماندہ طبقے سے وابستہ رہنما کے طور پر بھی ان کی شناخت رہی ہے۔
2013 میں سماج وادی پارٹی سے ہوئی تھی دوری
رام آسرے کشواہا 2013 میں سماج وادی پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری تھے۔ اسی دوران مظفر نگر فسادات کے معاملے پر ان کا پارٹی سے مختلف موقف سامنے آیا، جس کے بعد انہیں پارٹی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ بعد میں ان کی سماج وادی پارٹی سے بھی علیحدگی ہوگئی۔ اس وقت یہ معاملہ سیاسی حلقوں میں خاصا زیر بحث رہا تھا۔ سماج وادی پارٹی سے علیحدگی کے بعد کشواہا نے اپنی سیاسی سمت تبدیل کی اور بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوگئے۔ اب تقریباً 13 سال بعد انہوں نے بی جے پی چھوڑ کر دوبارہ سماج وادی پارٹی میں واپسی کی ہے۔
واپسی کے بعد کیا کہا؟
سماج وادی پارٹی میں شمولیت کے بعد رام آسرے کشواہا نے ملائم سنگھ یادو کو یاد کیا اور کہا کہ انہیں آج بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’نیتا جی‘ ان کے درمیان موجود ہیں۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کو بھی وہی مقام اور احترام دینے کی بات کہی جو ملائم سنگھ یادو کو حاصل تھا۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے اکھلیش یادو کو وزیر اعلیٰ بنانے تک سرگرم رہنے کی اپیل بھی کی۔ ان کی واپسی کے بعد اتر پردیش کی سیاست میں اس پیش رفت کو لے کر مختلف سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے۔
انتخابات سے پہلے سیاسی سرگرمیاں تیز
رام آسرے کشواہا کی سماج وادی پارٹی میں واپسی اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل ہوئی ہے۔ وہ ماضی میں سماج وادی پارٹی کی تنظیم میں اہم ذمہ داری سنبھال چکے ہیں اور طویل سیاسی تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کی واپسی کو مختلف سیاسی زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کا انتخابی اثر کیا ہوگا، اس بارے میں فی الحال کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


