نئی دہلی : پنجاب میں منشیات کے خلاف جاری کارروائی کے درمیان ایک رپورٹ میں منشیات کی اسمگلنگ کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سرحد پار سے ہونے والی اسمگلنگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے، لیکن اس کی جگہ بین ریاستی منشیات کی اسمگلنگ نے لے لی ہے۔ اس معاملے پر اب سیاسی بحث بھی شروع ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے اسی مسئلے کو لے کر بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ عام آدمی پارٹی کی حکومت بننے کے بعد پاکستان سے آنے والی منشیات کی اسمگلنگ پر 80 فیصد تک قابو پایا گیا ہے، لیکن اب ملک کی ہی مختلف ریاستوں سے پنجاب میں منشیات کی اسمگلنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کی کسی سرکاری تصدیق یا مستند ذریعے سے توثیق سامنے نہیں آئی ہے۔
کیجریوال کا بی جے پی پر حملہ
اروند کیجریوال نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’2022 میں جب ہماری حکومت بنی تھی تو 80 فیصد منشیات پاکستان سے آتی تھی۔ عام آدمی پارٹی کی حکومت نے اینٹی ڈرون سسٹم نصب کرکے پاکستان سے آنے والی منشیات پر قابو پایا۔ آج صرف 20 فیصد منشیات پاکستان سے آتی ہیں۔ آج 80 فیصد منشیات بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں—گجرات، راجستھان، ہریانہ، اتر پردیش اور دہلی—سے آ رہی ہیں۔ بی جے پی اپنی ریاستوں میں منشیات کا کاروبار روکنے میں ناکام رہی ہے یا اسے روکنا نہیں چاہتی؟‘‘
2022 में जब हमारी सरकार बनी थी तो 80% ड्रग्स पाकिस्तान से आती थी। “आप” सरकार ने एंटी ड्रोन सिस्टम लगाकर पाकिस्तान से आने वाली ड्रग्स पर काबू किया। आज केवल 20% ड्रग्स पाकिस्तान से आती हैं। आज 80% ड्रग्स बीजेपी शासित राज्यों से आ रही हैं – गुजरात, राजस्थान, हरियाणा, यूपी, दिल्ली।… pic.twitter.com/IllELZym91
— Arvind Kejriwal (@ArvindKejriwal) September 15, 2026
منشیات کی اسمگلنگ کا طریقہ بدلا
کیجریوال کی جانب سے شیئر کی گئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پنجاب کی سڑکوں پر ہیروئن کی دستیابی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کی وجہ سرحد پار سے آنے والی سپلائی چین میں اینٹی ڈرون سسٹم کے ذریعے رکاوٹ پیدا ہونا بتایا گیا ہے۔ پولیس نے سرحد پر نگرانی بھی بڑھائی ہے، لیکن اب منشیات کی سپلائی کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ پنجاب پہنچنے والی تقریباً 80 فیصد دواسازی کی منشیات اب گجرات، اتر پردیش، راجستھان، ہریانہ اور دہلی سے آ رہی ہیں۔ 2025 سے اب تک 11.54 لاکھ گولیاں اور کیپسول ضبط کیے جا چکے ہیں، جو سپلائی کے راستے میں تبدیلی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
دواسازی کے چینلز کا خطرناک نیٹ ورک سامنے آیا
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی سرحد پر سختی سے اگرچہ منشیات کی سپلائی کا ایک راستہ متاثر ہوا ہے، لیکن قانونی دواسازی کے چینلز کے ذریعے ایک اور خطرناک نیٹ ورک ابھر رہا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والی منشیات کی سپلائی کے خلاف کارروائی کے ساتھ ملک کے اندر موجود دواسازی کے سپلائی نیٹ ورک پر بھی سختی سے کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر منشیات کے خلاف جاری مہم میں مکمل کامیابی حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ اس کے لیے بین ریاستی پولیس کے درمیان بہتر تال میل کے ساتھ ساتھ سرحدی نگرانی اور سکیورٹی کو بھی مزید مضبوط کرنا ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

