ایران کے ساتھ جنگ اور امریکی پالیسی سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے ہی ملک میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکی پارلیمنٹ میں ایک رکن نے ایران جنگ کے معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ کے موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کئی اہم نکات سامنے رکھے۔
ایران جنگ پر ٹرمپ انتظامیہ پر سوال
امریکی رکنِ پارلیمنٹ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی اور جنگ کے حوالے سے ٹرمپ کے فیصلوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ میں جانے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس کے پیچھے اصل حکمت عملی کیا ہے؟رکنِ پارلیمنٹ نے جنگ کے ممکنہ اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی فوجی کارروائی کے نتائج صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے، بلکہ اس کا اثر امریکی فوجیوں، عوام اور عالمی سطح پر بھی پڑتا ہے۔
’جنگ کا مقصد کیا ہے؟‘
پارلیمنٹ میں بحث کے دوران ٹرمپ انتظامیہ سے جنگ کے مقصد اور اس کے ممکنہ انجام کے بارے میں وضاحت طلب کی گئی۔ امریکی رکن نے کہا کہ حکومت کو عوام اور کانگریس کے سامنے واضح کرنا چاہیے کہ ایران کے خلاف کارروائی سے امریکہ کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ جنگ کے فیصلے میں امریکی کانگریس کے کردار اور آئینی اختیارات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے بیان نے ٹرمپ کی ایران پالیسی پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکہ میں بڑھتی سیاسی بحث
ایران کے معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے امریکی سیاست میں پہلے ہی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ ایک طرف حکومت اپنی پالیسی کو قومی سلامتی اور امریکی مفادات سے جوڑتی ہے، تو دوسری جانب بعض قانون ساز جنگ کے ممکنہ نقصانات اور اس کے طویل مدتی نتائج پر سوال اٹھا رہے ہیں۔امریکی رکنِ پارلیمنٹ کے تازہ بیان کو بھی اسی سیاسی اختلاف کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران کے ساتھ کشیدگی کے درمیان اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ ٹرمپ انتظامیہ ان سوالات کا کیا جواب دیتی ہے اور امریکی کانگریس اس معاملے پر آگے کیا موقف اختیار کرتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


