جھارکھنڈ میں بھرتی امتحانات کے سلسلے میں جاری تنازع کے درمیان بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ منیش جیسوال نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ شاہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے جھارکھنڈ میں بھرتی امتحان سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے جانچ کرانے کا مطالبہ اٹھایا۔
امت شاہ شاہ کے سامنے اٹھایا معاملہ
منیش جیسوال نے امت شاہ شاہ سے ملاقات کے دوران جھارکھنڈ کے نوجوانوں اور امیدواروں سے متعلق اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ بھرتی امتحانات میں شفافیت اور امیدواروں کے مفادات کو یقینی بنانا ضروری ہے۔رکن پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ اور جامع جانچ کے لیے اسے سی بی آئی کے حوالے کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے امتحان سے متعلق سامنے آنے والے سوالات اور مبینہ بے ضابطگیوں کی حقیقت واضح ہوسکے گی۔
امیدواروں کے احتجاج کا معاملہ
جھارکھنڈ میں بھرتی امتحانات سے متعلق تنازع کے باعث امیدواروں اور طلبہ کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ امیدوار امتحانی عمل میں شفافیت، مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔منیش جیسوال نے اس معاملے کو نوجوانوں کے مستقبل سے جوڑتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمت کے امتحانات میں شامل ہونے والے امیدوار طویل عرصے تک تیاری کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر امتحانی عمل پر سوال اٹھیں تو ان کا ازالہ کرنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔
سی بی آئی جانچ کے مطالبے سے سیاسی سرگرمی تیز
امت شاہ شاہ سے ملاقات اور سی بی آئی جانچ کے مطالبے کے بعد جھارکھنڈ میں اس معاملے پر سیاسی سرگرمیاں مزید تیز ہونے کے امکانات ہیں۔ بی جے پی مسلسل ریاستی حکومت سے بھرتی امتحانات میں شفافیت برقرار رکھنے اور امیدواروں کے خدشات دور کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔منیش جیسوال نے امت شاہ شاہ کے سامنے معاملہ اٹھا کر مرکزی سطح پر بھی اس مسئلے کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ اس مطالبے پر مرکزی حکومت یا متعلقہ تحقیقاتی ادارے کی جانب سے کیا قدم اٹھایا جاتا ہے۔ دوسری جانب امیدواروں کی نظریں بھی حکومت کے اگلے فیصلے پر مرکوز ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


