بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ انفورسمنٹ کیس انفارمیشن رپورٹ (ECIR) کو آئین ہند کے آرٹیکل 226 کے تحت ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) صرف اسے ’’اندرونی انتظامی دستاویز‘‘ قرار دے کر عدالتی جانچ سے نہیں بچ سکتی۔ جسٹس ایم ناگاپرسنّا نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت ہائی کورٹ کے اختیارات نہ تو کسی قانونی درجہ بندی کے تابع ہیں اور نہ ہی سرکاری اصطلاحات سے محدود کیے جا سکتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ عدالتی نظرثانی (Judicial Review) آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے، اس لیے صرف کسی دستاویز کا نام ای سی آئی آر رکھ دینے سے اسے عدالتی جانچ سے بالاتر نہیں بنایا جا سکتا۔
نام نہیں، حقیقت اہم، ای ڈی کا اعتراض مسترد
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کسی کارروائی کا نام اس کی اصل نوعیت کو نہیں بدل سکتا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر کسی کارروائی کے نتیجے میں کسی شخص کی آزادی، جائیداد یا ساکھ متاثر ہوتی ہو تو صرف اصطلاحات کی بنیاد پر عدالتی جائزے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ای ڈی نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ ای سی آئی آر نہ تو کسی قانون کے تحت تسلیم شدہ دستاویز ہے اور نہ ہی ضابطۂ فوجداری (CrPC) میں اس کا کوئی ذکر ہے، اس لیے اسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ای سی آئی آر کو ’’اندرونی انتظامی دستاویز‘‘ کہا جاتا ہے، لیکن اسی کی بنیاد پر تلاشی، ضبطی، جائیداد کی قرقی، گرفتاری اور منی لانڈرنگ جیسے سخت قوانین کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسی دستاویز کو محض انتظامی قرار دینا اور دوسری طرف اس کی بنیاد پر فوجداری کارروائی کرنا آئینی اصولوں سے متصادم ہے۔
آرٹیکل 226 کے تحت درخواست قابلِ سماعت
ہائی کورٹ نے پہلی مرتبہ واضح کیا کہ آرٹیکل 226 کے ساتھ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 482 کے تحت دائر کی گئی درخواست کے ذریعے ای سی آئی آر کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس سے قبل مدراس، اڈیشہ اور پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے فیصلوں میں صرف دفعہ 482 کے تحت درخواستوں پر غور کیا گیا تھا، آرٹیکل 226 کے دائرۂ اختیار کا جائزہ نہیں لیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (PMLA) کی پوری بنیاد بنیادی جرم (Predicate Offence) پر قائم ہوتی ہے۔ اگر بنیادی مقدمہ بریت، ڈسچارج یا پولیس کی ‘بی رپورٹ’ قبول ہونے کے باعث ختم ہو جائے تو اس کی بنیاد پر قائم منی لانڈرنگ کی کارروائی بھی برقرار نہیں رہ سکتی۔
گیمز کرافٹ کمپنی کی عرضی پر فیصلہ
یہ فیصلہ گیمز کرافٹ ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ اور نردیشا نیٹ ورک پرائیویٹ لمیٹڈ کی درخواست پر سنایا گیا۔ درخواست گزاروں نے 11 نومبر 2025 کو درج ای سی آئی آر اور اس کے بعد ای ڈی کی جانب سے کی گئی تمام کارروائیوں کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ پی ایم ایل اے کی دفعہ 17(1A) کے تحت ای ڈی کی جانب سے کی جانے والی تلاشی، ضبطی اور اثاثے منجمد کرنے کی کارروائی کو بھی آرٹیکل 226 کے تحت چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اپنے فیصلے کے اختتام پر عدالت نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت دائر درخواست کے ذریعے ای سی آئی آر اور اس کی بنیاد پر کی گئی ہر کارروائی کے قانونی جواز کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، لہٰذا اس معاملے میں ای ڈی کا ابتدائی اعتراض ناقابلِ قبول ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




