Bharat Express DD Free Dish

Drone Attacks on Saudi Oil Facilities: سعودی تیل تنصیبات پر ڈرون حملے کی کوشش، قطر نے کی شدید مذمت

ترکی المالکی نے کہا کہ یہ حملے عراقی سرزمین سے کیے گئے اور ان کے پیچھے ایران کی حمایت یافتہ مسلح ملیشیائیں تھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کو اپنی سلامتی اور قومی وسائل کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ مناسب جواب دینے کا اختیار رکھتا ہے۔

دوحہ: قطر نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ڈرون حملوں کی کوشش کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

قطر کا سخت ردعمل

قطر کی وزارتِ خارجہ نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ وہ سعودی عرب کے مشرقی صوبے اور ریاض کے علاقے میں واقع تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے، جو عراقی سرزمین سے چھوڑے گئے ڈرونز کے ذریعے کیے گئے۔ وزارت کے مطابق یہ حملے سعودی عرب کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی، اس کی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ، نیز بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے منشور اور اچھے پڑوسی تعلقات کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ قطر ہر معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے تمام جائز اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

سعودی فضائی دفاع نے مار گرائے ڈرون

اس سے قبل سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا تھا کہ فضائی دفاعی نظام نے عراقی سرزمین سے چھوڑے گئے متعدد ڈرونز کو راستے میں ہی تباہ کر دیا، جو ملک کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ وزارتِ دفاع کے ترجمان ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران سعودی فضائی دفاعی فورسز نے کئی ڈرونز کو روک کر تباہ کیا، جو مشرقی صوبے اور ریاض کی تیل تنصیبات پر حملے کی غرض سے بھیجے گئے تھے۔

ایران نواز ملیشیاؤں پر الزام

ژنہوا خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی المالکی نے کہا کہ یہ حملے عراقی سرزمین سے کیے گئے اور ان کے پیچھے ایران کی حمایت یافتہ مسلح ملیشیائیں تھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کو اپنی سلامتی اور قومی وسائل کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ مناسب جواب دینے کا اختیار محفوظ رکھتا ہے۔ سعودی وزارتِ خارجہ نے بھی ڈرون حملے کی اس کوشش کی سخت مذمت کی ہے۔ تاہم اب تک عراق کے کسی بھی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

عراق نے تحقیقات کا عمل کر دیا تیز

20 مئی کو عراق میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس کا مقصد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر ایسے حملوں کی تحقیقات اور انسداد کے لیے تعاون کو فروغ دینا تھا۔ یہ اقدام ان ڈرون حملوں کے بعد اٹھایا گیا تھا جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی ابتدا عراقی سرزمین سے ہوئی تھی۔

عراقی حکومت کے ترجمان صبا النعمان نے ایک بیان میں کہا کہ وزیراعظم اور مسلح افواج کے سربراہ علی الجائیدی کی صدارت میں قومی سلامتی سے متعلق وزارتی کونسل کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ہدایت دی گئی کہ اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہو جائے کہ حملے عراقی سرزمین سے کیے گئے تھے تو ذمہ دار عناصر کے خلاف تمام ضروری قانونی اور حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read