Bharat Express DD Free Dish

Riyadh

سعودی حکومت کے میڈیا دفتر نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔ رواں ماہ کے آغاز میں کانفرنس کے منتظمین نے کہا تھا کہ مملکت پر میزائل حملوں کے باوجود پروگرام کے مطابق تقریب منعقد کی جائے گی۔ایف آئی آئی کے ایک میڈیا نمائندے نے رائٹرز کو تبصرے کے لیے ادارے کے چیف ایگزیکٹیو افسر اور چیئرمین کی جانب سے جاری کردہ اس بیان کی طرف متوجہ کیا، جو ہفتے کے حملوں سے پہلے جاری کیا گیا تھا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا کہ ایئرپورٹ کی سمت کالا دھواں اور آگ نظر آئی۔ اسی دوران فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلا ئٹ ریڈار 24‘ کے اعداد و شمار میں بھی متعدد پروازوں کی آمد اور روانگی میں تاخیر دکھائی گئی۔ویب سائٹ پر 3.5 سے 5 کے درمیان ڈیلے انڈیکس کا مطلب طویل تاخیر اور متعدد پروازوں کی منسوخی سمیت بڑی رکاوٹوں سے ہے۔

ترکی المالکی نے کہا کہ یہ حملے عراقی سرزمین سے کیے گئے اور ان کے پیچھے ایران کی حمایت یافتہ مسلح ملیشیائیں تھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کو اپنی سلامتی اور قومی وسائل کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ مناسب جواب دینے کا اختیار رکھتا ہے۔

سعودی عرب نے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے کی عمارت کو نشانہ بنائے جانے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں اور سفارتی روایات کے منافی ہیں۔

اگلے ہفتے روس کی طرف سے یوکرین پر کیے گئے مکمل فوجی حملے کو تین سال مکمل ہو جائیں گے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ماسکو کا مشرقی ڈونباس کے علاقے کے ایک بڑے حصے پر قبضہ برقرار ہے۔ روسی افواج نے حال ہی میں کوراخوف قصبے پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور شمال مشرق میں پوکروسک شہر کی جانب پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔

شام کے عبوری وزیر خارجہ اسد حسن الشیبانی نے 28 جنوری کو دمشق کے خلاف پابندیاں ایک سال کے لیے معطل کرنے کے یورپی یونین (EU) کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا قدم ہے جس سے شامی عوام کا معیار زندگی بہتر ہو سکتا ہے اور اقتصادی اصلاحات میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

جائے وقوعہ سے ملنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں مشتبہ شخص کو پولیس کی طرف سے حراست میں لینے کے بعد ایک بری طرح سے تباہ شدہ سیاہ کار کے قریب زمین پر پڑا ہوا دکھایا گیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ گاڑی سیاہ رنگ کی بی ایم ڈبلیو کار ہے۔

سوشل میڈیا صارفین اس ویڈیو پر خوب تبصرہ کررہے ہیں ۔ ایک صارف نے لکھا، ’’ویسے عرب ہندوستانی فلموں کو بہت پسند کرتے ہیں…‘‘ ایک دوسرے نے تبصرہ کیا، ’’یو حبیبی، ہندوستان میں خوش آمدید‘‘۔ ایک تیسرے صارف نے مزید کہا، "ہندوستانی موسیقی کی طاقت۔" اور چوتھے نے کہا، "یہ گانا بہت مشکل ہے۔

خاندان نے واضح طور پر اس بات سے انکار کیا کہ ان کے خاندان کا رکن  سعودی عرب میں ہے یا اس سلسلے میں بیرون ملک ہے۔ گرفتار عازمین حج کے بیٹے نے ہندوستانی سفارتخانے کو خط میں لکھا کہ ہمارے والد ایک سرکاری ملازم ہیں۔

دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کی بحالی کے ضمن میں ایک اور پیش رفت کی ہے۔ 10 مارچ کو بیجنگ میں سعودی عرب اور ایران نے 2016 سے منقطع تعلقات کو دوبارہ شروع کرنے اور دو ماہ کے اندر دونوں سفارتخانوں کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔