دہلی کے جنتر منتر پر کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی طلبہ تحریک اگرچہ اب تھمتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے، لیکن اس کی گونج اب بہار کی سیاست میں شدت اختیار کر چکی ہے۔ بہار بند کے دوران پولیس کارروائی، بڑی تعداد میں طلبہ کی گرفتاری اور سیوان میں ایک پولیس اہلکار کی جانب سے مبینہ طور پر اے کے-47 سے ہوائی فائرنگ کی وائرل ویڈیو نے اس تنازع کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
اے کے-47 فائرنگ اور گرفتاریاں، انتظامیہ پر اٹھے سوالات
اس پورے معاملے میں حکومت کی دو کارروائیوں پر سب سے زیادہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اے کے-47 سے ہوائی فائرنگ: سیوان میں احتجاج کے دوران ایک پولیس اہلکار کی جانب سے مبینہ طور پر اے کے-47 سے ہوائی فائرنگ کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا۔ اگرچہ محکمہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ اہلکار کو معطل کر دیا، تاہم اپوزیشن کو حکومت پر حملہ کرنے کا ایک بڑا سیاسی موقع مل گیا۔
طلبہ پر سنگین مقدمات: پٹنہ اور دیگر اضلاع میں احتجاج کرنے والے درجنوں طلبہ کو حراست میں لے کر ان کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔ طلبہ تنظیم سی جے پی اور اپوزیشن جماعتوں نے اسے اختلافِ رائے کو دبانے کی کارروائی قرار دیا ہے۔
راہل گاندھی کا حکومت پر الزام
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ حکومت طلبہ کی آواز دبانے کے لیے اے کے-47 اور لاٹھیوں کا استعمال کر رہی ہے۔ اس کے جواب میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے راہل گاندھی کے بیانات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے ان پر جوابی حملہ کیا۔دوسری جانب یہ معاملہ اب عدالت تک بھی پہنچ چکا ہے۔ آر جے ڈی کے رکنِ پارلیمنٹ منوج جھا کی عرضی پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ صرف احتجاج ہونے کی بنیاد پر لاٹھی چارج کو درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کیونکہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے۔
کیا بہار سیاست کا نیا مرکز بنے گا؟
بہار حکومت کا کہنا ہے کہ امن و قانون برقرار رکھنے اور بدامنی روکنے کے لیے کارروائی ضروری تھی۔ تاہم جس انداز میں یہ معاملہ اب صرف تعلیمی مسائل تک محدود نہ رہ کر جمہوری حقوق، پولیس کی کارروائی اور 2027 و 2029 کے سیاسی منظرنامے سے جڑ گیا ہے، اس سے واضح ہے کہ آنے والے دنوں میں بہار کی سیاست مزید گرم رہنے کا امکان ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

