ہفتہ کے روز مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) سمیت احتجاج میں شریک تمام افراد میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ تمام مظاہرین نے جنتر منتر کے اسٹیج پر ہی جشن منایا۔ جنتر منتر پر دھرنے پر بیٹھے CJP کے سربراہ ابھیجیت دیپکے کو کارکنوں نے اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔ دیپکے کے ہاتھ میں آئینِ ہند کے معمار بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی تصویر تھی۔دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد ابھیجیت دیپکے نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر آپ لوگ ڈرتے نہیں ہیں اور اس حکومت کے سامنے نہیں جھکتے، تو ہم کسی سے بھی استعفیٰ لے سکتے ہیں۔‘‘
’ہماری دو مانگیں ابھی باقی ہیں‘
ابھیجیت دیپکے نے دھرمیندر پردھان کے استعفے پر خوشی کا اظہار کیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے دو مطالبات ابھی بھی باقی ہیں۔دیپکے نے کہا، ’’ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں، یہ جمہوریت ہے۔ انہوں نے استعفیٰ دے دیا ہے، لیکن ہماری دو اور مانگیں ہیں۔ جن بچوں نے نیٹ (NEET) پیپر لیک کی وجہ سے خودکشی کی، ان کے اہلِ خانہ کو ایک کروڑ روپے کا معاوضہ دیا جائے۔ دوسری بات، 20 جولائی کو جن پولیس اہلکاروں نے غنڈہ گردی کی، ان افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ یاد رکھیں، کاکروچ سے پنگا مت لیجیے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’دھرمیندر پردھان کے استعفے کی وجہ سے مجھے ہیرو مت بناؤ۔ ایک شخص کو ہیرو بنانے کی وجہ سے ہی ملک کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔‘‘
CJP کی شرط کیا ہے؟
کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے قومی ترجمان آشوتوش رانکا نے کہا، ’’اگر حکومت ہماری تینوں مانگیں تحریری طور پر مان لے تو ہم اپنا دھرنا ختم کرکے گھروں کو واپس چلے جائیں گے۔ ہم نے پورے ملک میں پرامن کینڈل مارچ نکالنے کی اجازت مانگی ہے۔ شام 6 بجے ملک بھر میں کینڈل مارچ نکالا جانا چاہیے۔‘‘دوسری جانب، دھرمیندر پردھان کے استعفے پر سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے میدانتا اسپتال سے اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’یہ جمہوریت کی جیت ہے، سڑکوں سے حاصل ہونے والی حقیقی جمہوریت کی فتح ہے۔ یہ امن، صبر اور ثابت قدمی کی کامیابی ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
