Bharat Express DD Free Dish

Abhijit Dipke

دہلی پولیس نے جنتر منتر پر سی جے پی کو احتجاج کی اجازت نہ دینے کی وجہ بھی بتائی۔ ڈی سی پی نہا یادو کے مطابق، ماضی میں اس تنظیم کو احتجاج کی اجازت دی گئی تھی، لیکن پولیس کے دعوے کے مطابق اس دوران امن و قانون کی صورت حال خراب ہوئی تھی۔پولیس نے الزام لگایا کہ اس احتجاج کے دوران پتھراؤ، آتش زنی اور تشدد کے واقعات پیش آئے تھے، جن کے نتیجے میں سرکاری املاک کو بھاری نقصان پہنچا تھا۔

ممبئی کے احتجاج میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ابھیجیت دپکے نے کہا کہ اگر گیانیش کمار عہدے سے استعفیٰ نہیں دیتے تو ملک بھر سے نوجوان دہلی پہنچیں گے۔ انہوں نے آئندہ احتجاج کو ’جنتر منتر 2.0‘ قرار دیتے ہوئے ’چلو دہلی‘ کا نعرہ دیا۔سی جے پی کا کہنا ہے کہ اس کی تحریک پرامن رہے گی اور وہ مہاتما گاندھی کے بتائے راستے پر چلیں گے۔ تنظیم نے انتخابی عمل اور ووٹر فہرستوں سے متعلق اپنے اعتراضات کے حوالے سے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی کے 4 لیڈروں کو نوٹس، دہلی پولیس سے ایک ہفتے میں ایکشن ٹیکن رپورٹ طلب

ابھیجیت دپکے کی تعلیمی قابلیت اور ڈگری کو لے کر اٹھنے والے سوالات پر بھی انہوں نے ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ عوامی زندگی میں ہیں، ان کی ڈگری اور تعلیم کے بارے میں سوال پوچھے جا سکتے ہیں۔

دہلی میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP) کے بانی ابھجیت دیپکے  نے الزام عائد کیا ہے کہ دھمکیوں کے باعث انہیں میٹنگ کے لیے ہال نہیں مل رہا ہے۔ انہوں نے بی جے پی پر نوجوانوں سے خوفزدہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے 15 اگست سے ’کیا بولتی پبلک‘ مہم اور ’جنتر منتر سیزن 2‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اتر پردیش کے ہمیرپور میں چندوپور کے گنگوا کا ڈیرہ اور بچی کا ڈیرہ علاقوں کے طلبہ طویل عرصے سے سڑک نہ ہونے کی پریشانی کا سامنا کر رہے تھے۔ بارش کے موسم میں کیچڑ سے بھرے راستے پر اسکول جانا بچوں کے لیے خطرناک بن گیا تھا۔ اس مسئلے کے خلاف طلبہ اور مقامی افراد ترنگا ہاتھوں میں لے کر ضلع کلکٹریٹ پہنچے۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے یومِ آزادی سے قبل سرکاری اسکولوں کی صورتحال پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ملک 15 اگست 2026 کو آزادی کے 80 سال مکمل کرنے جا رہا ہے، لیکن گاؤں کے سرکاری اسکول آج بھی بنیادی سہولیات کی کمی سے دوچار ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے ایکس پرلکھا، ’’ملک میں توویسے ہی رپورٹ کے مطابق، تقریباً 20 اسکول سے زیادہ روزبند ہورہے ہیں، ایسے میں اترپردیش میں یونیورسٹی کوگرایا جانا مطلب تعلیم کوکچلنے جیسا فیصلہ ہوگا، جو اس ملک کے لئے قطعی درست نہیں ہوگا۔‘‘ سی جے پی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اترپردیش حکومت کواس فیصلے پرپھرسے غورکرنا چاہئے اوراس ملک کو واپس لینا چاہئے۔

مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) سمیت احتجاج میں شریک تمام افراد میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ تمام مظاہرین نے جنتر منتر کے اسٹیج پر ہی جشن منایا۔ دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد ابھیجیت دیپکے نے عوام سے خطاب بھی کیا۔

محمد جنید نے بھی پولیس کارروائی پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ شام کے وقت پولیس ان کے گھر پہنچی اور ان کے والد کو اپنے ساتھ لے گئی۔ ان کے مطابق میرٹھ میں مقیم ان کی بہن کے گھر بھی پولیس نے کارروائی کی اور ان کے سسر اور دیور کو حراست میں لیا۔ جنید نے دعویٰ کیا کہ ان کے اہل خانہ کی پاس بکیں اور آدھار کارڈ بھی ضبط کر لیے گئے