Bharat Express DD Free Dish

اوقاف کا تحفظ پوری ملت کی ذمہ داری، آل انڈیا متولیان کانفرنس میں مولانا محمود مدنی نے اوقاف کے تحفظ اور شفاف انتظام سے متعلق دیا بڑا بیان

پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اقبال انصاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ جہاں متولی موجود ہیں، وہاں وقف املاک رجسٹریشن اورقانونی کارروائیوں میں سب سے زیادہ مشکلات پیش آ رہی ہیں، اس لیے متولی حضرات کو خاص طورپرذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ حکومت اور عوام کے درمیان تنازعات میں عدالت کوآئینی حدود کے اندررہ کرفیصلہ کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا موجودہ دورمیں یہ کہنا مشکل ہے کہ عدالت انصاف کے مطابق کام کررہی ہے۔

نئی دہلی: وقف ایکٹ 2025 کے خلاف جاری سماجی و قانونی جدوجہد کے دوران آج جمعیۃ علماء ہند کے زیراہتمام ایوانِ غالب، نئی دہلی میں آل انڈیا متولیان کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ وقف محض جائیداد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی امانت اور اسلامی تہذیب کا اہم ستون ہے، اس لیے اس کی حفاظت، دستاویزات کا تحفظ اورضرورت پڑنے پرقانونی جدوجہد بھی عبادت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کو صرف متولی کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ملت کی مشترکہ ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ جس قوم نے اپنی امانتوں کی حفاظت چھوڑدی، تاریخ نے بھی اس کی حفاظت چھوڑدی۔ کانفرنس کی صدارت سید شاہ حافظ محمد علی الحسینی، سجادہ نشین درگاہِ حضرت خواجہ بندہ نوازگیسودراز، گلبرگہ شریف نے کی۔ جبکہ کلمات استقبالیہ ناظم عمومی جمعیۃعلماء ہند مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے پیش کئے۔ نظامت کے فرائض مولانا مفتی حسان قاسمی نے انجام دیئے۔
مولانا محمود مدنی نے کہا کہ اوقاف کودرپیش مسائل میں بیرونی چیلنجوں کے ساتھ ہماری اپنی غفلت، ناقص انتظام اوردستاویزات کی عدم حفاظت بھی شامل ہے۔ انہوں نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تناظر میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ انصاف اور آئینی اصولوں کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے ، انھوں نے کہا کہ میں حکومت سے بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انصاف کسی ایک طبقے پراحسان نہیں ہوتا، انصاف ریاست کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ قانون کی عزت اسی وقت باقی رہتی ہے، جب قانون سب کے لیے ایک جیسا ہو۔ انہوں نے متولیان سے اپیل کی کہ وقف املاک کا مکمل ریکارڈ محفوظ اورڈیجیٹلائزکیا جائے، مالی شفافیت، باقاعدہ آڈٹ اورناجائزقبضوں کے خلاف مؤثرقانونی کارروائی کویقینی بنایا جائے۔ مولانا مدنی نے موروثیت سے اجتناب پرزوردیتے ہوئے کہا کہ اس سے اداروں کا اعتماد اورروح متاثرہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زوردیا کہ موجودہ حالات میں اوقاف کے تحفظ کے لیے جز وقتی نہیں بلکہ کل وقتی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اخلاص، منصوبہ بندی اور مسلسل محنت کے ساتھ اس میدان میں کام کریں، ذمہ دارافراد تیارکریں اورملت کو اس مشن سے جوڑیں تواللہ تعالیٰ ہماری کوششوں کو قبول فرمائیں گے اوراوقاف کے خلاف ہونے والی ہرسازش کو ناکام بنائیں گے۔
جسٹس اقبال انصاری کی متولیوں کو ہدایت
پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اقبال انصاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ جہاں متولی موجود ہیں، وہاں وقف املاک رجسٹریشن اورقانونی کارروائیوں میں سب سے زیادہ مشکلات پیش آ رہی ہیں، اس لیے متولی حضرات کو خاص طورپرذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ حکومت اور عوام کے درمیان تنازعات میں عدالت کوآئینی حدود کے اندررہ کرفیصلہ کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا موجودہ دورمیں یہ کہنا مشکل ہے کہ عدالت انصاف کے مطابق کام کررہی ہے۔
اوقاف کے مسائل کا سارا بوجھ صرف متولیان یا حکومت پر نہیں ڈال سکتے: مولانا اصغرسلفی
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیرمولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے کہا کہ اوقاف کے مسائل کا سارا بوجھ صرف متولیان یا حکومت پرڈالنے کے بجائے پوری ملت اورعوام کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہئے۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرملک معتصم خاں نے کہا کہ اوقاف کی اہمیت کواجاگرکرتے ہوئے انہیں زیادہ مؤثراورعوامی مفاد کے لیے کارآمد بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف املاک پرناجائزقبضوں اورتنازعات کی ایک بڑی وجہ بعض متولیان کی غفلت اوربعض مقامات پروقف جائیدادوں کو ذاتی ملکیت سمجھنے کا رجحان ہےجس سے اوقاف کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اپنے صدارتی خطاب میں صدراجلاس سید شاہ محمد علی الحسینی (گلبرگہ) نے کہا کہ گزشتہ 2 برس کے دوران وقف کے تحفظ کی تحریکوں کے نتیجے میں عوام میں وقف کے بارے میں نمایاں بیداری پیدا ہوئی ہے، جسے مزید منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف املاک کے تحفظ، ناجائز قبضوں کے خلاف بروقت قانونی کارروائی اوروقف قوانین سے مکمل واقفیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اہلِ ثروت سے نئے اوقاف قائم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وقف کوتعلیم، صحت اوررفاہِ عامہ کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات پرزوردیا کہ متولی کی بنیادی ذمہ داری واقف کے منشا کی مکمل پابندی ہے۔
اوقاف کے تحفظ کے لیے ایک مؤثراورفعال کمیٹی کی تشکیل پر زور
شاہ سید یاداللہ حسینی نائب سجادہ نشیں روضہ خرد گلبرگہ شریف نے اپنے خطاب میں انہوں نے اوقاف کے تحفظ کے لیے ایک مؤثراورفعال کمیٹی کی تشکیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹی وقف جائیدادوں کے تحفظ، نگرانی اور قانونی دفاع کے لیے عملی منصوبہ تیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ اوقاف کا مؤثر تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب ذمہ داران ذاتی دلچسپی، احساسِ ذمہ داری اور مستقل عملی کوشش کے ساتھ اس کام کو انجام دیں۔ ساؤتھ ایشین مائناریٹیز لائیر ایسوسی ایشن (ساملہ)کے صدر ایڈوکیٹ ناصر عزیز نے زور دیا کہ ہر علاقے میں وقف تحفظ کمیٹیاں اور قانونی سیل قائم کیے جائیں، ناجائز قبضوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے اور متولیان شفاف مالی و انتظامی نظام اپنائیں۔انہوں نے کہا کہ وقف کا تحفظ پوری ملت کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس لیے عوام میں بیداری پیدا کی جائے، نوجوانوں کو اس عمل میں شریک کیا جائے اور وقف کی آمدنی کو اس کے اصل دینی، تعلیمی اور سماجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔
مختلف اراکین پارلیمنٹ نے حکومت کی پالیسیوں پر کی تنقید
اپنے خطاب میں ممبرپارلیمنٹ ہریندرملک نے وقف املاک میں بعض مقامات پربدانتظامی اورغیرشفاف معاملات پرتشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وقف کی آمدنی غریبوں اورضرورت مندوں کی فلاح کے لئے استعمال ہونی چاہئے۔ انہوں نے وقف کے تحفظ کی اس جدوجہد میں ہرممکن تعاون کا یقین بھی دلایا۔ ممبرپارلیمنٹ مولانا محب اللہ ندوی نے جمعیۃ علماء ہند کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے وقف کے تحفظ کے لیے مشترکہ اورمنظم جدوجہد کی ضرورت پرزوردیا۔ ممبرپارلیمنٹ عمران مسعود نے اپنے خطاب

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read