نئی دہلی: مبینہ نیٹ امتحانی پرچے کے افشا کے خلاف جاری کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے درمیان دہلی پولیس نے پیر کے روز عوام سے امن برقرار رکھنے اور افواہوں یا غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کرنے کی اپیل کی۔ پولیس نے مظاہرین سے بھی سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ تعاون کرنے اور عوامی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے قانونی ہدایات پر عمل کرنے کو کہا ہے۔ دہلی پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’دہلی پولیس تمام مظاہرین سے امن برقرار رکھنے، تحمل کا مظاہرہ کرنے اور امن و عوامی نظم و ضبط کو یقینی بنانے میں پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کرتی ہے۔ تمام شرکا سے درخواست ہے کہ وہ پرامن انداز میں اپنا احتجاج کریں، کسی بھی غیر قانونی یا پرتشدد سرگرمی میں ملوث نہ ہوں اور ڈیوٹی پر تعینات پولیس افسران اور اہلکاروں کی جانب سے جاری قانونی ہدایات پرعمل کریں۔‘‘
Delhi Police appeals to all protestors to maintain peace, exercise restraint and cooperate with the police in ensuring peace and public order. All participants are requested to conduct themselves in a peaceful manner, refrain from indulging in any unlawful or violent activities… pic.twitter.com/5QBH9dGeha
— Delhi Police (@DelhiPolice) July 20, 2026
افواہوں اور غیر مصدقہ مواد سے دور رہنے کی اپیل
پولیس نے عوام کو خبردار کیا کہ وہ کسی بھی پلیٹ فارم پر افواہوں، غلط معلومات یا غیر مصدقہ مواد پر یقین نہ کریں اور نہ ہی اسے آگے پھیلائیں۔ پوسٹ میں کہا ’’شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ معلومات کے لیے صرف مستند ذرائع پر انحصار کریں اور امن، ہم آہنگی اور عوامی نظم و ضبط برقرار رکھنے میں دہلی پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔‘‘
سی جے پی کا وزیرتعلیم کے استعفے سمیت تین مطالبہ
اس سے قبل کاکروچ جنتا پارٹی کے چیف ترجمان سورَو داس نے بتایا کہ پارٹی کے نمائندوں نے مرکزی وزیرِ صحت جے پی نڈا سے ملاقات کی اور تین مطالبات پیش کیے۔ ان میں وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اور نیٹ امیدواروں کے اہلِ خانہ کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ شامل ہے۔ داس کے مطابق 20 سے زائد نیٹ امیدوار اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اسپتال میں زیرعلاج کارکن سونم وانگچک کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ داس نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کے استعفے تک احتجاج جاری رہے گا۔ داس نے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ہم نے جے پی نڈا سے دو مرتبہ ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ہم نے اپنے تین مطالبات پیش کیے۔ پہلا مطالبہ سونم وانگچک کی فوری رہائی ہے۔ دوسرا مطالبہ دھرمیندر پردھان کے استعفے کا ہے، انہیں کابینہ سے برطرف کیا جائے یا وہ رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دیں۔ استعفیٰ ملنے تک احتجاج جاری رہے گا۔ تیسرا مطالبہ نیٹ امیدواروں کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا ہے۔‘‘
پارلیمنٹ میں بھی نیٹ پرچے کے مبینہ افشا کا معاملہ گونجا
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس ہنگامہ خیز انداز میں شروع ہوا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا، دونوں ایوانوں میں مبینہ نیٹ-یو جی 2026 پیپرلیک اور ایودھیا میں شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ میں مبینہ عطیات کے غبن کے معاملے پر بار بار کارروائی متاثر ہوئی۔ کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن ارکان نے دونوں معاملات پر بحث کا مطالبہ کیا، جس کے باعث نعرے بازی اور بار بار کارروائی ملتوی ہوئی۔ بالآخر دونوں ایوانوں کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ پارلیمنٹ کی کارروائی منگل کو صبح 11 بجے دوبارہ شروع ہوگی۔ مانسون اجلاس 13 اگست تک جاری رہنے والا ہے۔ ادھر مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف قومی دارالحکومت میں احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا، جب سی جے پی کے ارکان مبینہ پیپرلیک معاملے میں جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پارلیمنٹ اسٹریٹ کے قریب مظاہرین کو منتشر کرنے کے دوران دہلی پولیس کے اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

