Bharat Express DD Free Dish

Abhijeet Dipke Delhi Police Allegations: سونم وانگچک کے اسپتال منتقل ہوتے ہی ابھیجیت دیپکے برہم، پولیس پر عائد کیے سنگین الزامات

سونم وانگچک کی طبیعت بگڑنے کے بعد انہیں جنتر منتر سے صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اس دوران تحریک کے منتظم ابھیجیت دیپکے نے دہلی پولیس کی کارروائی پر شدید اعتراض کرتے ہوئے پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے۔

دہلی کے جنتر منتر پر گزشتہ 20 دنوں سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی ہفتہ کو اچانک طبیعت بگڑ گئی، جس کے بعد دہلی پولیس انہیں علاج کے لیے صفدر جنگ اسپتال لے گئی۔ اس واقعے کے بعد احتجاجی مقام پر تنازع بھی کھڑا ہو گیا۔ جس بینر تلے یہ تحریک چل رہی ہے، اس کے منتظم اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے پولیس کی کارروائی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے۔

ابھیجیت دیپکے کا پولیس پر الزام

ابھیجیت دیپکے نے دعویٰ کیا کہ دہلی پولیس نے سونم وانگچک کو زبردستی گھسیٹتے ہوئے احتجاجی مقام سے ہٹایا۔ انہوں نے پولیس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ پولیس نہیں بلکہ آر ایس ایس کے غنڈے ہیں۔‘‘ دیپکے کے مطابق صبح تقریباً سات بجے جب وہ کچھ دیر کے لیے باہر گئے ہوئے تھے، اسی دوران پولیس اہلکار موقع پر پہنچے اور سونم وانگچک کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے انہیں وہاں سے لے گئے۔

’’60 سالہ شخص کو زبردستی لے جایا گیا‘‘

دیپکے نے مزید الزام لگایا کہ 60 سالہ سونم وانگچک گزشتہ 20 دنوں سے بھوک ہڑتال پر تھے اور انہوں نے کچھ نہیں کھایا تھا، اس کے باوجود پولیس نے انہیں زبردستی گھسیٹ کر لے گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ سونم وانگچک کو کہاں منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ جب وہ اپنے دوست کے گھر سے واپس جنتر منتر جا رہے تھے تو پولیس نے ان پر بھی حملہ کیا۔

دہلی پولیس کا مؤقف

دوسری جانب دہلی پولیس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ماہر ڈاکٹروں کے مشورے اور دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق سونم وانگچک کو طبی معائنے اور علاج کے لیے صفدر جنگ اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق کارروائی کا مقصد صرف ان کی صحت کا تحفظ اور علاقے میں قانون و انتظام برقرار رکھنا تھا۔ اس دوران بعض مظاہرین نے پولیس کارروائی کی مخالفت کی، جس کے باعث موقع پر ہنگامہ آرائی کی صورتحال بھی پیدا ہوئی۔

اسپتال میں زیر نگرانی علاج جاری

صفدر جنگ اسپتال سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سونم وانگچک کو ایمرجنسی وارڈ میں داخل کیا گیا ہے، جہاں وہ ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق وہ ہوش میں ہیں، ان کی تمام ضروری طبی جانچ کی جا رہی ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان کی جسمانی حالت مستحکم ہے۔

20 جون سے جاری ہے احتجاج

واضح رہے کہ جنتر منتر پر یہ احتجاج 20 جون 2026 سے جاری ہے، جس کی قیادت کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کر رہی ہے۔ مظاہرین نیٹ-یو جی سمیت مختلف مسابقتی امتحانات میں مبینہ پیپر لیک اور بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read