Bharat Express DD Free Dish

Sonam Wangchuck

یومِ آزادی سے قبل معروف ماہرِ تعلیم اور اصلاحات پسند سونم وانگچک نے بھارت کی قیادت کو لے کر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مجرمانہ پس منظر رکھنے والے ارکانِ پارلیمنٹ کا ذکر کرتے ہوئے ملک میں ’’پُرامن انقلاب‘‘ اور ’’بھارت کی دوسری آزادی کی تحریک‘‘ شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا، ’’جنترمنترپر ہمارا پُرامن احتجاجی مظاہرہ تب تک جاری رہے گا، جب تک دھرمیندرپردھان استعفیٰ نہیں دے دیتے۔‘‘ ابھجیت دیپکے نے کہا کہ جنترمنترپرجاری پرامن دھرنا اس وقت تک ختم نہیں ہوگا، جب تک مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دے دیتے۔

 بالی ووڈ اداکارہ پریتی زنٹا نے سونم وانگچک سے انشن ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پرایک پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلبا اورسونم وانگچک ہندوستان کے مستقبل کے لئے لڑ رہے ہیں۔

 سونم وانگچک کو صفدرجنگ اسپتال سے میدانتا اسپتال میں شفٹ کیا جائے گا۔ دہلی ہائی کورٹ نے ان کی اہلیہ گیتانجلی کی عرضی پراسپتال میں شفٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کے حکم کے مطابق، میدانتا اسپتال میں ڈاکٹروں کا خصوصی پینل تشکیل کیا جائے گا۔ سونم وانگچک کے علاج کے لئے ماہرین ڈاکٹروں کی ٹیم بنے گی اور سبھی میڈیکل جانچ رپورٹ میدانتا کے ڈاکٹروں کے پینل کو سونپی جائے گی۔

دہلی میں پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس اور نیٹ پیپر لیک معاملے پر مودی حکومت کے خلاف احتجاجی مارچ کے پیش نظر دہلی پولیس نے ٹریفک ایڈوائزری جاری کی ہے۔

22 روزہ بھوک ہڑتال کے بعد سونم وانگچک نے انشن ختم کرنے کے لیے حکومت کے سامنے تین بڑی شرائط رکھ دیں۔ انہوں نے تعلیمی نظام، پرچہ لیک کے معاملات، اراکینِ پارلیمنٹ کی یقین دہانیوں اور صفدرجنگ اسپتال میں اپنی مبینہ حراست کے حوالے سے اہم بیان دیا۔

صفدرجنگ اسپتال کے مطابق سونم وانگچک کی حالت فی الحال مستحکم ہے، تاہم 21 روزہ بھوک ہڑتال کے باعث انہیں پانی کی شدید کمی (ڈی ہائیڈریشن) کا سامنا ہے۔ ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل ان کی نگرانی کر رہی ہے۔

سونم وانگچک کی طبیعت بگڑنے کے بعد انہیں جنتر منتر سے صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اس دوران تحریک کے منتظم ابھیجیت دیپکے نے دہلی پولیس کی کارروائی پر شدید اعتراض کرتے ہوئے پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے۔

نیٹ پیپر لیک معاملے میں مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سماجی کارکن سونم وانگچک اور دیگر تمام مظاہرین کو دہلی پولیس نے جنتر منتر سے  جبراً ہٹا دیا۔ اتوار کی صبح کی گئی اس کارروائی کے دوران دھرنا مقام پر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی، جس کے باعث علاقے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا۔

سوشل میڈیا پر سونم وانگچک کو فلم ’3 ایڈیٹس‘ کے کردار ’فنسکھ وانگڈو‘ سے جوڑنے والے دعوے ایک بار پھر زیرِ بحث ہیں۔ اسی دوران ان کے خاندان کے پرانے کانگریسی تعلقات بھی سامنے آئے ہیں۔ دراصل سونم وانگچک کے والد سونم وانگیال 1972 میں لیہ سے کانگریس کے رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور 1975 میں جموں و کشمیر حکومت میں وزیرِ مملکت بھی رہ چکے ہیں۔